سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 616
616 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ مگر میر محمد الحق جب مجلس میں بیٹھے ہوں تو میں بہت احتیاط سے بات کرتا ہوں۔آپ بعض ایسی خوبیاں رکھتے ہیں جو ایک دوسری کی ضد ہیں۔مثلاً عام طور پر فلسفی اور منطقی قوت عملی بہت کم رکھتے ہیں۔مگر آپ میں یہ دونوں صفات تھیں۔آپ غریبوں کے بے حد ہمدرد تھے۔ایک روز آپ احمد یہ چوک میں کھڑے تھے کہ دار الشیوخ کے بچے نماز کے لئے گزرے۔آپ نے مولوی علی محمد صاحب اجمیری سے فرمایا کہ مولوی صاحب یہ میرا باغ ہے۔ان کی خدمت سے زیادہ میرے لئے خوشکن کام کوئی اور نہیں۔دار الشیوخ میں بعض بچے اندھے ہیں۔ایک کی آنکھیں اور ناک بھی خراب ہے۔آپ لاہور کے جلسہ پر گئے تو وہاں وقت نکال کر ایک ڈاکٹر سے ملے اور اس سے پوچھا کہ اس طرح ایک بچہ ہے کیا اس کی آنکھیں اور ناک کو درست کیا جا سکتا ہے اور یہ معلوم کر کے بہت خوش ہوئے کہ ایسا ہوسکتا ہے۔(۵) جناب سید ولی اللہ شاہ صاحب ناظر امور عامه جناب شاہ صاحب نے فرمایا کہ مجھے قریباً ۲۲ سال مرحوم کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔مرحوم کی قوت گویائی زبر دست تھی جب بات کرتے تو معقولات نہ صرف مجسم صورت میں ہماری آ آنکھوں کے سامنے آ جاتے بلکہ جذبات بھی آپ کے آنکھوں سے آب رواں بن کر بہہ پڑتے اور دوسرے دلوں میں وہی اثر پیدا کر دیتا جو آپ کے دل میں ہوتا۔انجمن میں جب بھی کوئی مشکل سوال در پیش ہوتا تو آپ فوراً اسے نہایت احسن صورت میں حل کر دیتے۔جلسہ ہوشیار پور کے بعد میں نے مرحوم کو اداس دیکھا۔وجہ دریافت کی تو فرمایا میں تھکا ہوا سا ہوں۔میں نے کہا آپ آرام کریں۔ایسا نہ ہو صحت زیادہ خراب ہو جائے تو جواب دیا کہ بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔چند روزہ زندگی ہے۔جو بھی خدمت ہو سکے غنیمت ہے۔معلوم نہیں کس خدمت سے اللہ تعالیٰ راضی ہو۔جس روز بیمار ہوتے ہیں اس روز بھی مجلس میں شریک ہوئے اور معاملات کے طے کرنے میں پوری دلچسپی لی۔میرے پاس مکان پر گیارہ بجے کے قریب مبارک باد کہنے کے لئے تشریف لائے اور یہ دیکھ کر کہ آپ بیمار ہیں بخار اور سر درد کی شکایت ہے میں نے دوتین دفعہ کہا کہ آپ آرام کریں بلکہ چاہا کہ میں رخصت لے لوں اور اس بہانہ سے انہیں گھر پر روک رکھوں تا انہیں آرام کا موقعہ ملے۔مگر نہیں مانے اور فرمایا کام سے طبیعت بہلتی ہے۔مدرسہ میں امتحان ہیں کچھ