سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 596
596 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ داخل کر دیا اور خدا تعالیٰ کی ہستی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت پر ایک آیت اللہ قرار پائے۔خدا تعالیٰ کی اس وحی میں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر نازل ہوئی ان کی زندگی کے متعلق بعض الہامات اور پیشگوئیاں ہیں جو اپنے اپنے وقت پر پوری ہوئیں۔حتی کہ ان کی موت کے متعلق بھی اشارات پائے جاتے ہیں اور خود حضرت میر محمد الحق صاحب بھی یہ جانتے اور سمجھتے تھے اور بعض اوقات انہوں نے اس کا اظہار بھی کیا اور آخر وہ اسی پیشگوئی اور نشان کے موافق وفات پاگئے۔اللهم اغفره وارحمة سب سے پہلی مرتبہ حضرت میر محمد اسحق کے متعلق ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات میں اس نشان کے ضمن میں آیا جو اِنَّ كَيدَ كُنَّ عَظیم کے الہام میں ہے اور جس کی تصریح اسی کتاب میں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کے بیان سے میں کر آیا ہوں۔اسی نشان میں یہ ضمناً داخل ہو گئے۔کیونکہ اس مکتوب میں جس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ الہام ہوا حضرت میر محمد الحق صاحب کی وفات کا بھی ذکر تھا اور یہ عجیب بات ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریروں میں ان کا ذکر ابتدا ان کی خبر وفات کے سلسلہ سے شروع ہوتا ہے۔اس میں کچھ شبہ نہیں کہ اس وقت کے واقعات اور حالات ایسے ہی تھے کہ حضرت نانی اماں کی سخت تشویشناک علالت اور میر صاحب کی حالت شیر خوارگی اور خبر گیری کے اسباب کا فقدان ان کی موت کو بلا رہا تھا مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں نے موت کو حیات سے بدل دیا۔(1) سب سے پہلا الہام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آپ کے متعلق ۴ امئی ۱۹۰۵ ء میں ہوا جبکہ آپ بیمار تھے اور بظاہر صحت یابی کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر الہام نازل کر کے آپ کی صحت کی خوشخبری دی چنانچہ لکھا ہے۔میاں محمد اسحق حضرت میر ناصر نواب صاحب کا چھوٹا صاحبزادہ بیمار تھا۔ڈاکٹر صاحب کی رائے میں حالت اچھی نہ تھی۔فرمایا میں نے دعا کی اور دعا کی اصل وجہ تو شامت اعدا تھی ورنہ اولاد ہو یا کوئی اور عزیز موت فوت تو ساتھ ہی ہوتی ہے۔غرض جب میں دعا کر رہا تھا تو یہ الہام ہوا۔(۱) سلام قولاً من رب رحیم - (۲) پر خدا کا رحم ہے کوئی بھی اس سے ڈر نہیں۔“ ہے اس الہام کا ذکر تذکرہ میں ایک اور جگہ ان الفاظ میں آیا ہے: