سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 591
591 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ انہوں نے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سے شروع کی تھیں بچپن ہی سے نہایت ذہین اور ذ کی تھے۔بہت جلد بات کو اخذ کرتے اور اس کے مختلف پہلوؤں پر بڑی وضاحت اور عام فہم اسلوب سے تقریر کرتے تھے۔سلسلہ تعلیم میں مولوی فاضل کا امتحان تعریف کے ساتھ پاس کیا اور علوم دینیہ کی تکمیل حضرت حکیم الامتہ خلیفہ امسیح اول رضی اللہ عنہ سے کی۔سلسلہ کی خدمت خدمت سلسلہ کا آغاز انہوں نے مدرسہ احمدیہ کے ایک مدرس کی حیثیت سے شروع کیا۔اپنی مدت العمر خدمت سلسلہ میں نہ کبھی ترقی کا سوال پیش کیا نہ اپنے کسی قسم کے حقوق کا تقاضا کیا۔انہوں نے خدمت سلسلہ کو ایک واقف زندگی کی حیثیت سے شروع کیا تھا اور اسی رنگ میں ختم کر دیا۔وہ ایک بے نظیر مدرس ، عدیم المثل مبلغ اور مناظر ایک نکتہ رس مجتہد اور بے لوث قاضی اور قابل قدر مفکر اور بلند پایہ انتظامی قابلیت کے ماہر تھے۔انہوں نے آریوں ، عیسائیوں اور غیر احمدیوں سے کامیاب مباحثے کئے۔وہ ایک جادو بیان خطیب ہی نہ تھے اعلیٰ درجہ کے اہل قلم بھی تھے ان کے بیان اور تحریر میں یہ کمال تھا کہ وہ مشکل سے مشکل مسائل کو ایسا آسان اور عام فہم بنا دیتے تھے کہ سننے والے قربان ہوتے تھے۔تقریر یا مناظرہ کے وقت ان میں پریشانی اور گھبراہٹ کبھی نہیں دیکھی۔چہرہ پر بشاشت اور تبسم کھیلتا تھا اور وہ مخالف پر ایسی ضرب لگاتے تھے کہ وہ حیران ہو جاتا۔پادری جوالا سنگھ عیسائیوں میں بڑا منطقی اور فلاسفر سمجھا جاتا تھا حضرت میر صاحب کے ساتھ مناظرہ کر کے پچھتاتا تھا۔خاکسار عرفانی کبیر کا بھی ایک تحریری مختصر سا مباحثہ پادری جوالا سنگھ سے نور افشاں لود ہیا نہ میں ہوا تھا۔میر اعلم اس وقت اس کے مقابلہ میں کچھ نسبت نہ رکھتا تھا مگر حق میں ایک قوت ہوتی ہے آخر نور افشاں کے افسر اعلیٰ پادری سی بی نیوٹن نے اس سلسلہ کو بند کر دیا۔یہ تو ضمنا ذکر کر گیا۔حضرت میر صاحب نے گوجرانوالہ اور بمبئی میں اس کے منطق اور فلسفہ کے پر نچے اُڑا دیئے اور بمبئی میں بہت قبولیت بڑھ گئی تھی۔اگر میر صاحب وہاں سے جلد نہ آ جاتے تو بمبئی میں بہت بڑی کامیابی کی توقع تھی۔میر صاحب نے سلسلہ کے جس شعبہ میں کام کیا ہمیشہ اعزازی محض حبا للہ کیا اور جس شعبہ میں کیا اس کی اصلاح کر دی۔مدت العمر وہ ناظر ضیافت رہے اور لنگر خانہ کے انتظام میں کمال کر دیا۔سالانہ جلسہ کی تقریب پر ہزاروں انسانوں کے لوازم ضیافت کا انتظام خندہ پیشانی اور ان تھک ہمت سے کرتے تھے۔ناظر دعوت و تبلیغ ، ناظر بیت المال اور مختلف صیغوں کا کام انہوں نے کیا اور جس ادارہ کو