سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 47
47 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ مندرجہ ذیل امور سے آگاہی دی۔ا۔میں نے ارادہ کیا ہے کہ تمہاری ایک اور شادی کروں۔۲۔یہ سب سامان میں خود ہی کروں گا اور تمہیں کسی بات کی تکلیف نہ ہوگی۔۔وہ قوم کے شریف اور عالی نسب ہو نگے۔۴۔اس شہر کا نام بھی بتلایا گیا جو د ہلی ہے۔یہ بیوی ایک مبارک نسل کی ماں ہوگی۔۶۔اللہ تعالیٰ اس نسل سے ایک بڑی بنیاد حمایت اسلام کی ڈالے گا۔ے۔اور اس نسل سے ایک وہ شخص بھی پیدا کرے گا جو آسمانی روح اپنے اندر رکھتا ہوگا۔۔وہ بیوی کنواری شادی میں آئے گی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد بھی عرصہ دراز تک زندہ رہے گی۔تیری نسل ملکوں میں پھیل جائے گی اور یہ ذریت منقطع نہ ہوگی اور آخری دنوں تک سرسبز رہے گی۔۱۰۔اس نسل کو خاندان کے دوسرے افراد پر یہ امتیاز ہوگا کہ یہی بڑھیں گے اور جدی بھائیوں کی ہر ایک شاخ کاٹ دی جائے گی۔ہاں جو تو بہ کر یں گے بچالئے جائیں گے۔یہ دس قسم کے نشانات جن کا ذکر تذکرہ میں موجود ہے جو اس شادی کے ساتھ وابستہ تھے اور خدا تعالیٰ کی منشاء کے ماتحت لفظ بلفظ اور حرف بحرف پورے ہو کر رہے۔اس پیشگوئی کے اخیر میں فرمایا : ”اے منکر و اور حق کے مخالفو! اگر تم میرے بندے کی نسبت شک میں ہو۔اگر تمہیں اس فضل و احسان سے کچھ انکار ہے جو ہم نے اپنے بندے پر کیا تو اس نشانِ رحمت کی مانند تم بھی اپنی نسبت کوئی سچا نشان پیش کرو اگر تم سچے ہو اور اگر تم بھی پیش نہ کر سکو اور یادرکھو کہ ہرگز پیش نہ کر سکو گے تو اس آگ سے ڈرو جو نافرمانوں اور جھوٹوں اور حد سے بڑھنے والوں کے لئے تیار ہے۔ا یہ آخری حصہ قرآن کریم کی اس تحدی کو پیش کر رہا ہے جو ان الفاظ میں ہے: وَإِنْ كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّنْ مِثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَ كُمْ مِنْ دُونِ