سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 564
564 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ میں نے سیدۃ النساء حضرت اُم المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے حضور حالات عرض کر کے درخواست کی کہ حضور کی اجازت ہو تو جلسہ کے موقعہ پر حاضر ہو کر کچھ خدمت کرلوں۔سیدہ محترمہ نے از راہ کرم ذرہ نوازی فرمائی اور نہایت محبت سے لکھا کہ جلسہ پر ضرور آجاؤ جلسہ کے بعد پھر جا کر وہ کام ختم کر لینا۔چنانچہ میں دارالامان آ گیا اور عجیب اتفاق کی بات ہوئی کہ جس وقت میں پہنچا۔جناب مولوی محمد علی صاحب ایک مجلس میں بیٹھے جلسہ کے کاموں کے لئے کارکنوں کی ڈیوٹیاں لگا رہے تھے میں نے بلند آواز سے السلام علیکم کہا اور عرض کیا ”مولوی صاحب میں بھی حاضر ہو گیا ہوں۔مجھے بھی کوئی خدمت دی جائے۔مولوی صاحب نے سراٹھا کر میری طرف دیکھا اور فرمایا۔شیخ صاحب آپ اب سیر ہی کریں اور کوئی ڈیوٹی نہیں۔چنانچہ مجھے کوئی کام نہ دیا گیا اور میں جلسہ کے بعد پھر اور رخصت کی درخواست دے کر واپس دہلی چلا گیا۔جہاں کام سے فارغ ہو کر واپس دارالامان آیا اور لمبی رخصت لیکر میں نے تجارت کا کام شروع کر دیا جس کے لئے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی جیب سے دس روپے بطور پونجی مرحمت فرمائے۔خدا کے فضل سے اخلاص اور محبت سے دی گئی وہ پونچھی اتنی بابرکت ہوئی کہ ہزاروں روپے اس کے ذریعہ مجھے اللہ تعالیٰ نے دیئے۔میں نے انجمن کی ملازمت سے جلد ہی استعفی دے دیا اور پھر ہمیشہ کے لئے اس کی ملازمت کا ارادہ ترک کر دیا۔کیونکہ جس بات کی وجہ سے مولوی محمد علی صاحب نے مجھے سیر ہی کرنے کا طعن دیا تھا۔نہ صرف یہ کہ میں اس کام سے باز آنے والا نہ تھا بلکہ اس کے بغیر میری زندگی ہی محال تھی۔اور الحمد للہ کہ آج تک اس کام میں غیر معمولی روحانی لذت پاتا ہوں۔اور اسے اپنے لئے دین ودنیا کی برکات کا موجب سمجھتا ہوں“۔خاکسار عبدالرحمن قادیانی حضرت اُم المؤمنین کا ایک عجیب کا رنامہ حضرت ام المؤمنین کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جو محبت تھی اس کی وجہ صرف یہ نہ تھی کہ حضور آپ کے شوہر تھے بلکہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقام اور رفعت شان پر ایمان رکھتی تھیں اور آپ کو خدا تعالیٰ کا برگزیدہ اور مسیح موعود یقین کرتی تھیں اور خود حضرت مسیح موعود