سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 560 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 560

560 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ دعاؤں میں لگ جاؤں گا۔بہر حال میں خاموش ہو جاؤں گا۔اگر وہ مصلح موعود ہیں تو پھر وہ حلفیہ بیان کریں کہ آیا الہاما ان کو اطلاع ملی کہ وہ وہی فرزند ہیں جس کا اشارہ سبز اشتہار میں ہے۔۲۴ خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ جب حضرت مصلح موعود نے اپنے دعوئی کا اعلان کیا تو خواجہ صاحب مرحوم اس دنیا سے گرز چکے تھے۔انہوں نے اپنے جس فیصلہ کا اظہار کیا ہے وہ ان کے رفقاء پر اتمام حجت ہے۔کم از کم ان کو اس دعویٰ کی مخالفت اور انکار تو نہیں کرنا چاہیئے تھا۔طریق تقویٰ یہ تھا کہ وہ خاموش ہو جاتے اور دعاؤں میں لگ جاتے اور اب تو خدا تعالیٰ نے ان کی تائید اور نصرت سے اس پر مہر صداقت ثبت کر دی۔حضرت مصلح موعود نے حلف مؤکد بالعذاب کے ساتھ ہوشیار پور، لودھیانہ، لا ہور، دہلی میں اعلان کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ایک سال کے اندر ہی لانظیر تائیدات آپ کی کی ہیں اور ہر نیا دن نئی نصرتوں کا جلوہ گاہ ہوتا ہے۔اللهم زدفرد۔جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا ہے کہ یہ ذکر ضمنا آ گیا اور یہ حضرت ام المؤمنین کی ایک امتیازی شان کا مظہر ہے اور اس دعویٰ کے اعلان کے وقت حضرت ام المؤمنین کی زندگی بھی ایک اعجازی نشان ہے۔ولله الحمد حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کی ڈائری کا ایک ورق اگر چہ حضرت اُم المؤمنین متعنا الله بطول حياتها کی سیرت طیبہ کے متعلق بہت سی روایات اور تاثرات میں درج کر چکا ہوں لیکن کچھ اور باقی بھی ہیں ان میں سے حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی سلمہ اللہ تعالیٰ کی ڈائری کا ایک ورق جو نہایت اہم ہے سب سے اول درج کرتا ہوں۔اس ورق کے پڑھنے سے معلوم ہو جائے گا کہ صدرانجمن احمدیہ کے اکا برعموماً اور جناب مولوی محمد علی صاحب کا طریق عمل کیا تھا اور جماعت کے مخلص بزرگ ان کے متعلق کس قسم کے جذبات رکھتے تھے اور ان کا عام اخلاق کس رنگ کا تھا اور حضرت اُم المؤمنین کے ساتھ ان کو قدرتی بغض تھا حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب کو محض اس وجہ سے رضا کارانہ جلسہ کے موقعہ پر خدمت کا موقع نہ دیا گیا کہ وہ حضرت ائم المؤمنین کے حکم سے حضرت سیدہ کے کام کے لئے گئے ہوئے تھے اور حضرت ام المؤمنین کی خدمت