سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 554 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 554

554 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اس تقریر کے بعد مبلغین سلسلہ نے بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو پیشگوئی شائع فرمائی تھی کہ مصلح موعود کے ذریعہ احمدیت کا نام دنیا کے کناروں تک روشن ہوگا وہ کس شان اور عظمت سے پوری ہوئی ہے۔آخر میں حضور نے فرمایا: دو میں آسمان کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں۔زمین کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں۔ہوشیار پور کی ایک ایک اینٹ کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ یہ سلسلہ دنیا میں پھیل کر رہے گا۔حکومتیں اگر اس کے مقابلہ میں کھڑی ہوں گی تو مٹ جائیں گی۔بادشاہتیں کھڑی ہوں گی تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گی۔لوگوں کے دل سخت ہوں گے تو فرشتے ان کو اپنے ہاتھوں سے ملیں گے یہاں تک کہ وہ نرم ہو جائیں گے اور ان کے لئے احمدیت میں داخل ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔۲۰ اس کے بعد حضور نے احباب کو جانے کی رخصت عطا فرمائی اور دعا کے لئے تشریف لے گئے۔ڈاکٹر بشارت احمد صاحب کے تاثرات میں کسی دوسری جگہ ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب مرحوم کے تاثرات حضرت ام المؤمنین کی سیرت کے متعلق لکھ آیا ہوں اب ڈاکٹر بشارت احمد صاحب مرحوم کے تاثرات بھی درج کر دیتا ہوں اگر چہ ڈاکٹر بشارت احمد صاحب ( مولوی محمد علی صاحب رئیس منکرین خلافت کے خسر ) اپنی تحریروں میں اختلاف کے بعد نیش زنی کرتے رہے ان کا معاملہ اب خدا تعالیٰ سے ہے خود ان پر حقیقت کھل چکی ہوگی۔مجھے ضرورت نہیں کہ ان کے اس طرز عمل پر اس جگہ کوئی بحث کروں مجھے یہ دکھانا ہے کہ باوجود معاند ہونے کے انہوں نے جب مجدد اعظم لکھی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے واقعات کے ذکر میں حضرت اُم المؤمنین کے صبر جمیل اور رضا با لقضا کا بھی ذکر کیا۔مصیبت اور ابتلا کے وقت ہی دراصل انسان کے حقیقی ایمان باللہ کا پتہ چلتا ہے اور عزیزوں کی موت سب سے بڑا امتحان ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا۔خلق الموت والحيوة ليبلوكم أَيُّكُم أحسن عملا یعنی اس خدا نے موت اور حیات کو