سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 546
546 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ یقین رکھتے ہیں۔اگر یہ نہیں تو پھر ہمارا ایمان ہمارے منہ کی ایک بات ہے۔جو محض لاف ہی لاف ہے اور جس کی اصلیت کچھ نہیں۔۱۵ لیکن وہی بعد میں لکھنے والے امیر منکرین خلافت اس حد تک دور نکل گئے کہ آپ کی وحی کو بھی حدیث سے ادنی مرتبہ کا بتایا۔نیز کہا کہ آپ کے دعوی کو نہ ماننے سے کوئی کا فرنہیں ہوسکتا اور ایسا شخص مسلمان ہی کہلائے گا اور نجات پاسکتا ہے۔اسی طرح وہ اس وحی اور تعلیم اور بیعت والی کشتی نوح سے جو اس زمانہ میں خدا نے تیار کی تھی علیحدہ ہو کر گویا ایک پہاڑ پر جا کر کھڑے ہوئے اور خیال کیا کہ اب وہ اس طرح ترقی پائیں گے اور نہ صرف خود نجات پائیں گے بلکہ دوسروں کی نجات کا بھی موجب ہوں گے۔لیکن ان کی یہ حالت بالکل نوح کے بیٹے کی حالت کے مشابہ تھی۔جسے حضرت نوح نے فرمایا : اے میرے بیٹے اركب معنا ہمارے ساتھ سوار ہو جاؤ۔کیونکہ آج اس طوفان سے سوائے اس کے جس پر خدا کا رحم ہو کوئی بچانے والا نہیں۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنے روحانی بچوں کی یہ دوری کی حالت ان کے امیر کی صورت میں دکھائی گئی کہ وہ اتنی دور نکل گئے ہیں کہ وہ میری وحی تعلیم اور بیعت کو مدار نجات نہیں سمجھتے۔اس لئے حضرت نوح کی طرح حضور نے بھی اسے مخاطب کر کے عالم رویاء میں ندادی۔آپ بھی صالح اور نیک ارادے رکھتے تھے۔آؤ ہمارے پاس بیٹھ جاؤ۔“ کیونکہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے۔صرف احمد یہ جماعت ہی ایسی ہے کہ جن کا دین دشمنوں کی دست برد سے بچے گا۔ہر ایک بنیاد جوست ہے۔اس کو شرک اور دہریت کھاتی جائے گی۔مگر اس جماعت کی بڑی عمر ہوگی اور شیطان اس پر غالب نہیں آئے گا۔گویا آپ نے فرمایا کہ دوسروں کے ساتھ ملنے سے تم اپنے آپ کو غرق ہونے سے نہیں بچا سکو گے اور آہستہ آہستہ تم اور تمہاری اولادیں شرک اور دہریت کا شکار ہوتی جائیں گی۔اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے یہ معاملہ رہا ہے کہ باوجود یوسف نام ہونے اور رب السجن احب الی کی دعا کے الہام ہونے اور مقدمات کے ہونے کے آپ کو اللہ تعالیٰ نے قید سے بچالیا۔باوجود مسیح نام پانے کے صلیب سے بچایا۔بلکہ کا سر صلیب کا لقب عطا فر ما یا با وجود ابراہیم اور محمد نام پانے کے یہ نوبت نہ پہنچی کہ آپ کو ہجرت کرنی پڑتی۔گو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام ولا تُكَلِّمُنِي في الذين ظلموا انهم مغرقون وَعُدَّ اعلينا حق۔جس کے متعلق حضور نے فرمایا