سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 545 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 545

545 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی خواب میں تین جو ان لڑکوں کی خوشخبری دی گئی تھی۔11 چنانچہ وہ تین لڑکے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ اور صاحبزادہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور صاحبزادہ حضرت مرزا شریف احمد صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائے۔جو حضور کی تعلیم کے مطابق تقوی اور نیکوکاری میں بڑھتے گئے اور صراط المستقیم پر قائم ہوئے۔جیوش انسائیکلو پیڈیا میں زیر لفظ نوح عربی لٹریچر کے ماتحت لکھا ہے۔جس کا ترجمہ حسب ذیل ہے۔یعنی حضرت نوح کی ایک اور بیوی بھی تھی۔جس کا نام وائلہ تھا جو اپنے بیٹے کی طرح کا فر تھی اور جو اپنے لڑکے کے ساتھ ہی ہلاک ہو گئی۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پہلی بیوی جو حضرت اقدس کے ان رشتہ داروں کے رنگ میں رنگین تھیں۔جو دین سے سخت لا پرواہ تھے۔۱۲ اور جنہیں آخر کا ر ا ۱۸۹ء میں حضرت اقدس نے طلاق دے دی تھی۔۱۳ انہوں نے بھی غیر احمدی ہونے کی حالت میں وفات پائی جیسے اُن کے بیٹے مرز افضل احمد صاحب نے۔پس ماں اور بیٹا دونوں نے حضرت مسیح موعود پر بغیر ایمان لائے وفات پائی۔جیسا کہ حضرت نوح کی پہلی بیوی اور بیٹے نے یبنی اركب معنا حضرت مولوی محمد علی صاحب نے انگریزی ترجمہ القرآن میں اسی امر کو ترجیح دی ہے کہ وہ لڑکا جو غرق ہوا۔وہ حضرت نوح کا صلبی لڑکا نہ تھا۔بلکہ ان کی بیوی کا پہلے خاوند سے تھا۔ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جو طوفان اور کشتی بنانے کے لحاظ سے حضرت نوح علیہ السلام سے مشابہت ہے وہ روحانی رنگ میں بھی ہے۔چنانچہ حضور اپنی وحی واصنع الفلك باعيننا ووحينا کولکھ کر جو حضرت نوح کو بھی ہوئی تھی فرماتے ہیں۔” اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے اس کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کیلئے اس کو مدار نجات ٹھہرایا۔جس کی آنکھیں ہوں دیکھے جس کے کان ہوں سنے۔“ ۱۴ اس لحاظ سے آپ کے روحانی اہل وہی تھے۔جنہوں نے آپ کو اسی رنگ میں مانا اور منکرین خلافت بھی حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں اسی کے مطابق لکھتے رہے۔کہ ہم اسی وقت ایمان کا دعویٰ کر سکتے ہیں جب کہ ہم ان آسمانی نشانوں کو دیکھ کر جو اللہ تعالیٰ نے اپنے مامور کی وساطت سے اس زمانہ میں ظاہر فرمائے ہیں۔خدا تعالیٰ کی ہستی پر کامل