سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 540
540 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ سلسلہ کی تاریخ اس افترا اور جھوٹ کو ضرور محفوظ رکھے گی اور سیرت اُم المؤمنین آنے والی نسلوں میں اعلان کرتی رہے گی کہ اس قسم کے ناخلف بھی تھے جو اپنی روحانی ماں پر یہ ناز یبا طعن کرتے تھے اور ہر آنے والی نسل ان پر ملامت کرے گی۔اس اعتراض کے جواب میں وہ واقعات جن کا اوپر ذکر کیا ہے کافی ہیں۔لیکن میں ایک اور دستاویز پیش کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے انتخاب پر جو اعلان صدرا انجمن احمدیہ کے معتمدین نے (جس کے سیکرٹری مولوی محمد علی صاحب بھی تھے ) شائع کیا اس میں یہ اقرار موجود ہے اور وہ یہ ہے : ”آپ کے وصایا مندرجہ رسالہ الوصیت کے مطابق حسب مشورہ معتمدین صدرانجمن احمد یہ موجودہ قادیان واقر با حضرت مسیح موعود و به اجازت حضرت ام المؤمنین گل قوم نے جو قادیان میں موجود تھی اور جس کی تعداد اس وقت بارہ سو تھی۔حضرت حاجی الحرمین و شریفین جناب حکیم نورالدین صاحب سلمہ کو آپ کا جانشین اور خلیفہ قبول کیا۔اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔“ یہ اعلان خواجہ کمال الدین مرحوم مولوی محمد علی صاحب، ڈاکٹر محمد حسین صاحب مرحوم ، ڈاکٹر یعقوب بیگ مرحوم اور شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم وغیرہ معتمدین کے دستخط سے شائع ہوا۔فماذ ابعد الحق الا الضلال (نوٹ) اس حصہ کی طباعت کے وقت حضرت حجتہ اللہ نواب محمد علی خاں صاحب رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ان کی ڈائری کے اوراق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے واقعات پر شائع ہوئے ہیں۔اس ڈائری سے حضرت اُم المؤمنین کا وہ بیان ظاہر ہے جو خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم کو حضرت سیدہ محترمہ نے دیا تھا اور جس کا خلاصہ خواجہ صاحب نے اعلان متذکرہ بالا میں بہ اجازت حضرت ام المؤمنین کے الفاظ میں کیا ہے۔خدا تعالیٰ کی عجیب قدرت ہے کہ جیسا کہ اس نے اہلِ بیت کی تطہیر کا وعدہ فرمایا تھا۔پیغامی اعتراض کا جواب ان کے ہاتھوں ہی سے تحریر کرا دیا تھا اور اب جدید انکشاف حضرت نواب صاحب کی ڈائری نے کر دیا۔واللہ الحمد (عرفانی کبیر )