سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 530
530 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہشوں کو پورا کرنے کا شوق حضرت اُم المؤمنین کی ہمیشہ یہ تڑپ رہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ہر اس خواہش کو پورا کیا جاوے جو کسی نہ کسی رنگ میں خدمت اسلام یا شعائر اسلام کی عملی عظمت کو ظاہر کرتی ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ابتدائی زمانہ تو گوشہ تنہائی کا تھا۔پھر جب خدا تعالیٰ کی مشیت نے آپ کو خلوت سے باہر نکالا تب آپ کے دعاوی کی وجہ سے اس قدر مخالفت کا بازار گرم ہوا کہ آپ کے خلاف کفر کے فتویٰ ہی نہیں قتل کے فتویٰ دیئے گئے۔اگر چہ اس وقت بھی آپ کی مالی حالت ایسی نہ تھی کہ آپ پر حج فرض ہوتا تاہم آپ کی یہ خواہش تھی کہ کسی وقت حج بھی کریں مگر وہ موقع نہ آسکا اور آپ کو پیغام الرحیل آ گیا۔حضرت اُم المؤمنین کو چونکہ حضور کے اس ارادہ کا علم تھا آپ نے حضور کی وفات کے بعد پہلے آپ کے ذمہ ایک قرضہ کے ادا کرنے کا انتظام کیا اور پھر حافظ احمد اللہ خاں صاحب کو جو پہلے بھی حج کر چکے تھے۔کافی زاد راہ دیکر حج کے لئے روانہ کیا اور حافظ صاحب کے حصہ میں یہ سعادت آئی کہ انہوں نے حضرت ام المؤمنین کے ارشاد کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے حج بدل کیا۔حضرت اُم المؤمنین نے حضرت کی اس خواہش کو پورا کر کے یہ ثابت کیا کہ آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دینی خواہشوں کو پورا کرنے کا شوق اس ایمان کی وجہ سے تھا جو آپ کو حضرت اقدس پر تھا اور آپ یقین رکھتی ہیں کہ حضور کی خواہشوں کو پورا کرنا خدا کی رضا کا موجب ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے رفع کے بعد جب حضرت حکیم الامت مولا نا نور الدین رضی اللہ عنہ خلیفہ اسیح ہوئے تو آپ ان کو سلسلہ کا امام یقین کر کے خودان کی ذات اور سلسلہ کے مدات میں چندہ دیتی رہتی تھیں۔اور یہ چیز مخفی رنگ میں تھی۔دنیا کو شاید کبھی علم نہ ہوتا اگر خود حضرت حکیم الامت نے اس کا اظہار نہ فرمایا ہوتا۔چنانچہ ۱۹۰۹ء کے سالانہ جلسہ پر حضرت خلیفتہ المسیح اول رضی اللہ عنہ نے ایک تقریر کے دوران میں فرمایا کہ: د دلنگر کی آمدنی میں میرا یقین تھا کہ حضرت صاحب کے کنبہ اور متعلقین کو اس میں