سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 529
529 سیرت حضرت سید ہ نصرت جہان بیگم صاحبہ بالخیرات تھے۔انہوں نے ایک روز در بار شام میں بعد نماز مغرب عرض کیا کہ حضور میری بیوی اپنا مہر مجھ کو معاف کر دینا چاہتی ہے اور کئی بار کہہ چکی ہے۔حضور نے ہنستے ہوئے فرمایا میں تو اس قسم کی معافی کا قائل نہیں ہوں۔ہاں اگر آپ ان کے مہر کی پوری رقم ان کی جھولی میں ڈال دو اور اس رقم کے مل جانے کے بعد دو چار دن اپنے پاس رکھ کر پھر آپ کو واپس دیکر کہے کہ میں نے مہر آپ کو معاف کر دیا ہے اور یہ آپ واپس لے لیں تب تو کوئی بات بھی ہے ورنہ عورتیں بعض وقت یہ سمجھ کر کہ ملتا تو ہے ہی نہیں معاف کر دو یا شوہر بعض اوقات اپنی مشکلات کو کسی نہ کسی رنگ میں پیش کر کے معافی کی تحریک کرتے رہتے ہیں آخر وہ بیچاریاں مجبور ہو کر کہ دیتی ہیں کہ میں نے معاف کر دیا۔یہ کوئی معافی نہیں ہوتی ایک قسم کی کر ہا معافی ہوتی ہے۔میرا مقصد اس واقعہ کے بیان کرنے سے یہ ہے کہ جیسے حضرت اقدس نے اپنے طرز عمل سے بتایا۔بیویوں کے امول ان کے اپنے ہیں اور شوہر کو اس میں اپنی مرضی سے محض شوہر ہونے کی حیثیت سے تصرف کرنے کا حق نہیں بلکہ یہ حق کلیۂ عورت کا ہے۔اس طرح عورتوں کے حقوق کی حفاظت کی تعلیم دی اور حضرت اُم المؤمنین نے اپنے عمل سے یہ سبق دیا ہے کہ دین کی ضرورت سب سے مقدم ہے اور اس کیلئے پیاری سے پیاری چیز کے قربان کرنے کی ضرورت ہو تو تامل نہیں چاہئے۔ازالہ و ہم یہاں اس وہم کا ازالہ بھی میں ضروری سمجھتا ہوں جو بعض کو تاہ فہم لوگوں کے دل میں پیدا ہوسکتا ہے کہ حضرت اُم المؤمنین نے قرضہ دینے کی بجائے سلسلہ کی ضروریات کے لئے دے ہی کیوں نہ دیا ؟ اگر چہ اس کا جواب اوپر آ گیا ہے خدا تعالیٰ کے مامور د مرسل اپنی عملی زندگی سے ایک نمونہ پیدا کرنا چاہتے ہیں باوجودیکہ میاں بی بی کا معاملہ تھا مگر قرآن کریم نے جو اصول اور قواعد قرضہ کے متعلق بیان کئے ہیں ان پر عمل ہر شخص کیلئے لازم ہے خواہ وہ کسی درجہ اور مقام کا ہو۔یعنی نبی کے لئے بھی وہی احکام ہیں۔پس حضرت اقدس نے فرمان مقبوضه پر عمل کر کے بتایا کہ قرضہ کا معاملہ معرض تحریر میں آنا چاہئے اور اس کے شرائط ادائیگی وغیرہ خود مقروض لکھوائے اور اگر معاملہ رہن کا ہے تو چاہئے کہ شے مرہونہ قبضہ میں دے دی جائے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس پر عمل کر کے ایک صحیح تعلیم دے دی کہ معاملات لین دین کا طریق یہ ہے۔