سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 528 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 528

528 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ۱۸۹۸ء کی پہلی ششماہی کے آخر میں بعض اہم دینی ضروریات کے لئے روپیہ کی ضرورت تھی۔آپ نے قرضہ لینے کی تجویز کا ذکر گھر میں فرمایا۔حضرت اُم المؤمنین نے فرمایا کہ باہر کسی سے قرضہ لینے کی کیا ضرورت ہے۔میرے پاس ایک ہزار روپیہ نقد ہے اور کچھ زیورات ہیں آپ اس کو لے لیں۔آپ نے فرمایا کہ میں بطور قرض لے لیتا ہوں اور اس کے عوض باغ رہن کر دیتا ہوں گو حضرت اُم المؤمنین اس رقم کو پیش کر رہی تھیں مگر آپ نے جماعت کو تعلیم دینے کے لئے کہ بیویوں کا مال ان کا اپنا مال ہوتا ہے۔قرض ہی لیا اور قرآن کریم کی ہدایت کے ماتحت اسے معرض تحریر میں لے آنا اور فرمانٌ مَقْبُوضه پر عمل کرنے کیلئے دستاویز کو رجسٹری کروالینا ضروری سمجھا۔چنانچہ یہ سعادت خاکسار عرفانی ( جوان ایام میں تراب احمدی کہلاتا تھا ) کے حصہ میں آئی۔میں نے رجسٹرار کو قادیان لانے اور دستاویز کو مکمل کرانے کا انتظام کیا اور دستاویز رہن نامہ کا مسودہ منشی حسین بخش اپیل نویس بٹالہ نے مرتب کیا تھا اور ہمارے مخلص بھائی خطیب بٹالوی نے ( جو عرضی نویس تھے ) بھی اس کام میں حصہ لیا۔یه دستاویز ۲۵ جون ۱۸۹۸ء کو رجسٹری ہوئی اس میں اقرار یہ تھا کہ تمہیں سال کے بعد باغ ایک سال کے اندر فک کرالیا جاوے گا اور اکتیسواں سال بھی گزر جاوے تو اسی پانچ ہزار میں بیچ بالو فا ہو جائے گا۔بالطبع عورتوں کو زیور پسند ہوتا ہے مگر حضرت اُم المؤمنین نے دینی ضروریات کے لئے اس کو پیش کر دینا ہی ضروری سمجھا اور یہ پہلا موقع نہ تھا حضرت اُم المؤمنین نے ہمیشہ سلسلہ کی ضروریات کو اپنی ضروریات پر مقدم سمجھا اور کبھی اپنی متاع کو خرچ کرنے میں پس و پیش نہیں فرمایا۔اس معاملہ رہن میں خواتین سلسلہ اور جماعت کے مردوں کیلئے ایک عملی سبق ہے مستورات سلسلہ کی ضروریات کے لئے اپنے اموال کو قربان کرنے میں مضائقہ نہ سمجھیں ایسا ہی مردوں کے فرائض میں ہے کہ وہ اپنی بیویوں کے اموال کو ان کی ملکیت خالص سمجھیں ان پر نا جائز تصرف نہ کریں اور اگر کسی ضرورت سے ان کا مال لیں تو اسے بطور قرض لے کر واپس کریں۔اس موقعہ پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کا ایک واقعہ یاد آ گیا اور میں اس کو لکھے بغیر آگے نہیں چل سکتا۔ہماری جماعت میں حضرت حکیم فضل الدین صاحب بھیروی رضی اللہ عنہ بڑے مخلص اور سابق