سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 526 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 526

526 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ابتداء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک اعلان فرما یا جماعت کی ابتدائی حالت تھی اور تعمیر کیلئے دس ہزار روپیہ کا اندازہ کیا گیا تھا۔آپ نے اس رقم کے پورا کرنے کیلئے پھر ایک اشتہار ” اپنی جماعت کے خاص گروہ کیلئے شائع فرمایا اور ایک سو ایک خدام کو مخاطب فرمایا کہ وہ ایک ایک سو روپیہ اس مقصد کے لئے ادا کریں۔سلسلہ کی تاریخ میں یہ پہلی خاص تحریک تھی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ان خدام کو توفیق دی کہ اپنے امام کی آواز پر لبیک کہیں۔چنانچہ آپ نے اسی اشتہار میں جو خاص گروہ کے نام شائع کیا۔تحریر فرمایا: میں آج خاص طور پر اپنے ان مخلصوں کو اس کام کے لئے توجہ دلاتا ہوں جن کی نسبت مجھے یقین ہے کہ اگر وہ بچے دل سے کوشش کریں تو ممکن ہے یہ کام ہو جائے اگر انسان کو ایمانی دولت سے حصہ ہو تو گو کیسے ہی مالی مشکلات کے شکنجہ میں آجائے تا ہم وہ کارِ خیر کی۔توفیق پالیتا ہے۔اس خاص گروہ میں ایک سو ایک آدمیوں کے نام تھے اور انہوں نے خدا تعالیٰ کے فضل سے حضرت اقدس کے ارشاد کی تعمیل کی توفیق پائی اور عجیب بات ہے کہ جن مخلصین کو اس سعادت سے حصہ ملا انہوں نے اس دنیا میں بھی ثمرات و برکات کا لطف اُٹھایا۔میں اس سلسلہ میں حضرت اُم المؤمنین کی شاندار قربانی کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔حضرت اقدس نے دس ہزار روپے کا تخمینہ اس وقت فرمایا تھا۔حضرت اُم المؤمنین نے ۱/۱۰ اس چندہ کا دے دیا۔اور یہ رقم اپنی ایک جائیداد واقعہ دہلی کو فر وخت کر کے دی وہ جائیداد اگر اس وقت تک باقی رکھی جاتی تو آج اس کی قیمت کئی ہزار کی ہوتی۔لیکن حضرت ائم المؤمنین نے اس کی پرواہ نہ کی اور فورا اس کے فروخت کر دینے کا حکم دے دیا۔اس کے متعلق میں ایک تحریری شہادت پیش کرنی ضروری سمجھتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کا احسان بے پایاں ہے کہ اس شہادت کی حفاظت حضرت والد صاحب عرفانی کبیر کے ذریعہ ہوئی۔جس کا ذکر انہی ایام میں حضرت مخدوم الملت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک مکتوب میں کیا تھا۔یہ واقعہ حضرت اُم المؤمنین کی بلند ہمتی اور خدا تعالیٰ کی آیات کے لئے قربانی کا بے نظیر ہے اور سلسلہ عالیہ کی مستورات کے لئے خدمت دین کے لئے اسوہ حسنہ ہے اور نیز یہ ثبوت ہے حضرت مسیح موعود کی صداقت کا۔آپ کی ہر تحریک اور کاموں کو حضرت اُم المؤمنین کس طرح پر خدا تعالیٰ کی طرف سے یقین کرتی ہیں اور اس کے