سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 525
525 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ حضرت ام المؤمنین کی سلسلہ کیلئے مالی قربانیاں تمہیدی نوٹ حضرت اُم المؤمنین کی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے لئے ہر قسم کی قربانیاں اور ایثار کی نظیر بہت کم ملے گی۔کوئی وقت اور موقع ایسا نہیں آیا کہ اسلام کے لئے کسی مالی ضرورت کا سا منا ہوا اور حضرت ائم المؤمنین نے اپنی ذات سے اس میں حصہ نہ لیا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عصر سعادت میں ہر تحریک میں آپ شریک ہوتی رہیں اور آپ کے رفع الی اللہ کے بعد سلسلہ خلافت کے قیام سے لے کر آج تک بدستور آپ ہر تحریک میں شریک ہوتی ہیں اور آپ کی ذریت طیبہ کی قربانیوں اور خدمات دین میں بھی آپ کا حصہ ہے اور چنا نچہ تحریک جدید کے دفتر اول کے نو سال کے اندر خاندان نے بہتر ہزار چھ سو ستاون روپے دیئے اور دسویں سال کے چندہ کو شریک کر کے تو ایک لاکھ کے قریب پہنچتا ہے۔یہ تو صرف ایک تحریک جدید کا ذکر ہے وہ کونسی تحریک ہے جس میں خود حضرت اُم المؤمنین اور آپ کی ذریت طیبہ شریک نہیں ہوتی اس باب میں میں صرف حضرت اُم المؤمنین کی ان قربانیوں کا ذکر کروں گا جو میرے علم میں آچکی ہیں۔اکثر وہ ان کاموں میں اخفا سے بھی کام لیتی ہیں۔بہر حال اس خصوص میں جو کچھ ذکر میں کر رہا ہوں۔وہ بطور نمونہ کے ہے۔( محمود احمد عرفانی ) المسيح حضرت ام المؤمنین اور منارة اسبیح منارہ مسیح کے متعلق حضرت می موعود علیہ اصلاۃ والسلام نے ۱۳ مئی ۱۹ء کوایک اشتہار شائع فرمایا تھا جس میں منارة امسیح کے برکات اور ثمرات کا تفصیل سے ذکر فرمایا اور آپ نے یہ بھی اشارہ فرمایا تھا کہ میرا زمانہ زمان البرکات ہے اس لئے کہ تمام قوموں پر اسلام کی برکات ثابت کی جائیں گی اور دکھلایا جائے گا کہ ایک اسلام ہی بابرکت مذہب ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے بڑی تفصیل کے ساتھ ان برکات وثمرات کا ذکر اپنی تحریروں میں فرمایا ہے۔مجھ کو اس کتاب کے موضوع کے لحاظ سے صرف اس حد تک ذکر زیر نظر ہے جس کا تعلق حضرت ام المؤمنین کی مالی قربانی سے ہے