سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 521
521 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ خواب میں دیکھا کہ میر ناصر نواب صاحب اپنے ہاتھ پر ایک درخت رکھ کر لائے ہیں جو پھل دار ہے اور جب مجھ کو دیا تو وہ ایک بڑا درخت ہو گیا جو بیدا نہ توت کے درخت کے مشابہ تھا اور نہایت سبز تھا اور پھلوں اور پھولوں سے بھرا ہوا تھا۔اور پھل اس کے نہایت شیریں تھے اور عجیب تر یہ کہ پھول بھی شریں تھے مگر معمولی درختوں میں سے نہیں تھا۔ایک ایسا درخت تھا کہ کبھی دنیا میں دیکھا نہیں گیا۔میں اس درخت کے پھل اور پھول کھا رہا تھا کہ آنکھ کھل گئی۔میری دانست میں میر ناصر سے مراد خدائے ناصر ہے کہ وہ ایک ایسے عجیب طور سے مدد کرے گا جو فوق العادت ہوگی۔۱۴ نوٹ : یہ رویا بھی حضرت اُم المؤمنین اور آپ کی بابرکت اولاد کے متعلق ہے۔گو جو تعبیر حضرت اقدس نے فرمائی وہ بھی اپنے رنگ میں پوری ہو رہی ہے۔(عرفانی کبیر ) خواب میں میں نے دیکھا کہ میری بیوی مجھے کہتی ہے کہ میں نے خدا کی مرضی کے لئے اپنی مرضی چھوڑ دی ہے۔اس پر میں نے ان کو جواب میں یہ کہا کہ : اسی سے تو تم پر حسن چڑھا ہے۔۱۵ یہ فقرہ اس فقرہ سے مشابہ ہے جو زبور میں ہے کہ تو حسن میں بنی آدم سے کہیں زیادہ ہے ( الہام نمبر ۷ صفحه ۶۹۹) فرمایا کہ آج دو بجے دن کے مجھے خیال آیا کہ ہمارے گھر کے آدمی اب شاید امرتسر پہنچ گئے ہوں گے اور یہ بھی خیال تھا کہ امن و امان سے لاہور میں پہنچ جائیں۔تب اس خیال کے ساتھ ہی غنودگی ہوئی تو کیا دیکھتا ہوں کہ نخود کی دال ( جو رنج اور نا خوشی پر دلالت کرتی ہے ) میرے سامنے پڑی ہے اور اس میں کشمش کے دانے قریباً اسی قدر ہیں اور میں اس میں سے کشمش کے دانے کھا رہا ہوں اور میرے دل میں خیال گزر رہا ہے کہ یہ ان کی حالت کا نمونہ ہے اور دال سے مراد کچھ رنج اور نا خوشی ہے کہ سفر میں ان کو پیش آئی ہے یا آنے والی ہے۔پھر اسی حالت میں میری طبیعت الہام الہی کی طرف منتقل ہوگئی اور اس بارے میں الہام ہوا۔خَيْرٌ لَّهُمْ خَیرٌ لَّهُمُ یعنی ان کے لئے بہتر ہے۔ان ( نوٹ از ایڈیٹر ) غرض اس الہام اور خواب کی جب کہ اچھی طرح سے اشاعت ہو گئی تو قریب شام کے اپنا ایک آدمی جو سب قافلہ کو ریل پر سوار کر کے واپس آیا تھا۔اس کی زبانی معلوم ہوا کہ عین دو پہر کی گرمی میں ریل کے اندر مسافروں کی کشاکش سے بچنے کے واسطے جو انتظام ریز رو کا کیا گیا تھا وہ نہ ہوسکا۔کیونکہ لا ہور سے کوئی الگ گاڑی اس مطلب کے واسطے نہ پہنچ سکی تھی۔اور اس سبب سے تشویش ہوئی۔اس طرح خواب کا حصہ پورا ہوا۔مگر پھر بھی بموجب بشارت الہام کے خیریت رہی اور معمولی گاڑی میں آرام سے بیٹھ کر چلے گئے۔