سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 520
520 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ” میرے گھر میں جو ایام امید تھے۔۱۴ جون ۱۸۹۹ء کو اول در دزہ کے وقت ہولناک حالت پیدا ہوگئی۔یعنی بدن تمام سرد ہو گیا۔اور ضعف کمال کو پہنچا اور غشی کے آثار ظاہر ہونے لگے۔اس وقت میں نے خیال کیا کہ شاید اب اس وقت یہ عاجزہ اس فانی دنیا کو الوداع کہتی ہے۔بچوں کی سخت درد ناک حالت تھی اور دوسرے گھر میں رہنے والی عورتیں اور ان کی والدہ تمام مردہ کی طرح اور نیم جان تھے۔کیونکہ رڈی علامتیں ایک دفعہ پیدا ہو گئی تھیں۔اس حالت میں ان کا آخری دم خیال کر کے اور پھر خدا کی قدرت کو مظہر العجائب یقین کر کے ان کی صحت کیلئے میں نے دعا کی۔ایک دفعہ حالت بدل گئی اور الہام ہوا۔تحويلُ المَوْتِ یعنی ہم نے موت کو ٹال دیا اور دوسرے وقت پر ڈال دیا اور بدن گرم ہو گیا اور حواس قائم ہو گئے اور لڑکا پیدا ہوا جس کا نام مبارک احمد رکھا گیا۔10 حضرت اُم المؤمنین علیہا السلام کی طبیعت ۳ جنوری انشاء کو کسی قدر ناساز ہو گئی تھی۔اس کے متعلق حضرت اقدس نے سیر کے وقت فرمایا کہ چند روز ہوئے میں نے گھر میں کہا کہ میں نے کشف میں دیکھا ہے کہ کوئی عورت آئی ہے اور اس نے آ کر کہا کہ تمہیں کچھ ہو گیا ہے۔اور پھر الہام ہوا۔أَصِحَ زَوجَتِي چنانچہ کل ۳ جنوری انشاء کو یہ کشف اور الہام ہو گیا۔یکا یک بے ہوشی ہوگئی اور جس طرح پر مجھے دکھایا گیا تھا اسی طرح ایک عورت نے آکر بتا دیا۔دیکھا کہ میں کسی راستہ پر چلا جاتا ہوں گھر کے لوگ بھی ساتھ ہیں اور مبارک احمد کو میں نے گود میں لیا ہوا ہے۔بعض جگہ نشیب و فراز بھی آجاتا ہے۔جیسے کہ دیوار کے برابر چڑھنا پڑتا ہے۔مگر آسانی سے اُتر چڑھ جاتا ہوں اور مبارک اسی طرح میری گود میں ہے۔ارادہ ہے کہ ایک مسجد میں جانا ہے۔جاتے جاتے ایک گھر میں جا داخل ہوئے ہیں۔گویا وہ گھر ہی مسجد موعود ہے۔جس کی طرف ہم جار ہے ہیں۔اندر جا کر دیکھا ہے کہ ایک عورت بعمر اٹھارہ سال سفید رنگ وہاں بیٹھی ہے۔اس کے کپڑے بھگوے رنگ کے ہیں۔مگر بہت صاف ہیں۔جب اندر گئے ہیں تو گھر والوں نے کہا ہے کہ یہ احسن کی ہمشیرہ ہے“۔۱۲ رب اشفِ زَوجَتِي هَذِهِ وَاجْعَلُ لَهَا بَرَكَاتٍ فِى السَّمَاءِ وَبَرَكَاتٍ فِي الْأَرْضِ ٣ ( ترجمہ از مرتب ) اے میرے رب میری بیوی کو شفاء بخش اور اس کیلئے آسمانی برکتیں اور زمینی برکتیں عطا فرما۔