سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 519
519 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اور چھوٹے لڑکے کا عقیقہ پیر کو ہوا۔اب جبکہ یہ لڑ کا یعنی مبارک احمد پیدا ہوا تو وہ خواب بھول گئے اور عقیقہ اتوار کے دن مقرر ہوا۔لیکن خدا کی قدرت ہے کہ اس قدر بارش ہوئی کہ اتوار کو عقیقہ کا سامان نہ ہو سکا اور ہر طرف سے حارج پیش آئی۔ناچار پیر کے دن عقیقہ قرار پایا۔پھر ساتھ یاد آیا کہ قریباً چودہ برس گزر گئے کہ خواب میں دیکھا تھا کہ ایک چوتھا لڑکا پیدا ہو گا اور اس کا عقیقہ پیر کے دن ہو گا۔تب وہ اضطراب ایک خوشی کے ساتھ مبدل ہو گیا کہ کیونکر خدا تعالیٰ نے اپنی بات کو پورا کیا اور ہم سب زور لگا رہے تھے کہ عقیقہ اتوار کے دن ہو۔مگر کچھ بھی پیش نہ گئی اور عقیقہ پیر کو ہوا۔یہ پیشگوئی بڑی بھاری تھی کہ اس چودہ برس کے عرصہ میں یہ پیشگوئی کہ چارلڑ کے پیدا ہوں گے اور پھر چہارم کا عقیقہ پیر کے دن ہوگا۔انسان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ اس مدت تک کہ چارلڑ کے پیدا ہو سکیں زندہ بھی رہیں۔یہ خدا کے کام ہیں۔مگر افسوس کہ ہماری قوم دیکھتی ہے۔پھر آنکھ بند کر لیتی ہے۔۸ اصْبِرُ مَلِيًّا سَاهَبُ لَكَ غُلَامًا زَكِيًّا یعنی کچھ تھوڑا عرصہ صبر کر کہ میں تجھے ایک پاک لڑکا عنقریب عطا کروں گا اور یہ پانچ شنبہ کا دن تھا اور ذی الحجہ ۱۳۱۶ھ کی دوسری تاریخ تھی جب کہ یہ الہام ہوا اور اس الہام کے ساتھ ہی یہ الہام ہوا۔رَبِّ أَصِحَ زَوْجَتِي هَذِهِ یعنی اے میرے خدا! میری اس بیوی کو بیمار ہونے سے بچا۔اور بیماری سے تندرست کر۔یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اس بچے کے پیدا ہونے کے وقت کسی بیماری کا اندیشہ ہے۔سواس الہام کو میں نے اس تمام جماعت کو سنا دیا جو میرے پاس قادیان میں موجود تھے۔اور اخویم مولوی عبد الکریم صاحب نے بہت سے خط لکھ کر اپنے تمام معزز دوستوں کو اس الہام سے خبر کر دی اور پھر جب ۱۳ جنوری ۱۸۹۹ ء کا دن چڑھا جس پر الہام مذکورہ کی تاریخ کو جو ۱۳/ اپریل ۱۸۹۹ء کو ہوا تھا پورے دو مہینے ہوتے تھے تو خدا تعالیٰ کی طرف سے اُسی لڑکے کی مجھ میں روح بولی اور الہام کے طور پر یہ کلام اس کا میں نے سنا۔إِنِّي أَسْقُطُ مِنَ اللَّهِ وَيُصِيبُهُ یعنی اب میرا وقت آ گیا اور میں اب خدا کی طرف سے اور خدا کے ہاتھوں سے زمین پر گروں گا۔اور پھر اسی کی طرف جاؤں گا۔اور پھر بعد اس کے ۱۴ جون ۱۸۹۹ء کو وہ پیدا ہوا۔“