سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 517
517 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ جائے گی۔یعنی آپ اس کی زندگی میں وفات پا جائیں گے۔چنانچہ واقعات نے اس حقیقت کو ثابت کر دیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج تک جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات پر چھتیں سال سے زائد گزر گئے۔حضرت اُم المؤمنین سلامت با کرامت ہیں۔وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ (عرفانی) تخمیناً سولہ برس کا عرصہ گزرا ہے کہ میں نے شیخ حامد علی اور لالہ شرمیت کھتری ساکن قادیان اور لالہ ملا وامل کھتری ساکن قادیان اور جان محمد مرحوم ساکن قادیان اور بہت سے اور لوگوں کو یہ خبر دی تھی کہ خدا نے اپنے الہام سے مجھے اطلاع دی ہے کہ ایک شریف خاندان میں وہ میری شادی کرے گا اور وہ قوم کے سیڈ ہوں گے اور اس بیوی کو خدا مبارک کرے گا اور اس سے اولاد ہوگی اور یہ خواب ان ایام میں آئی تھی کہ جب میں بعض اعراض اور امراض کی وجہ سے بہت ہی ضعیف اور کمزور تھا بلکہ قریب ہی وہ زمانہ گزر چکا تھا جبکہ مجھے دق کی بیماری ہوگئی تھی اور بباعث گوشہ گزینی اور ترک دنیا کے اہتمامات تابل سے دل سخت کارہ تھا اور عیالداری کے بوجھ سے طبیعت متنفر تھی تو اس حالت پر ملامت کے تصور کے وقت یہ الہام ہوا تھا۔هر چه باید نوعروسے را ہمہ ساماں کنم یعنی اس شادی میں تجھے کچھ فکر نہیں کرنا چاہیئے۔ان تمام ضروریات کا رفع کرنا میرے ذمہ رہے گا۔سو تم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے اپنے وعدہ کے موافق اس شادی کے بعد ہر ایک بار شادی سے مجھے سبکدوش رکھا اور مجھے بہت آرام پہنچایا۔کوئی باپ دنیا میں کسی بیٹے کی پرورش نہیں کرتا جیسا کہ اس نے میری کی اور کوئی والدہ پوری ہوشیاری سے دن رات اپنے بچے کی ایسی خبر نہیں رکھتی جیسا کہ اس نے میری رکھی اور جیسا کہ اس نے بہت عرصہ پہلے براہین احمدیہ میں یہ وعدہ کیا تھا کہ یا احمد اسکن انت وزوجك الجنّة ایسا ہی وہ بجا لایا۔معاش کا غم کرنے کیلئے کوئی گھڑی اس نے میرے لئے خالی نہ رکھی اور خانہ داری کے مہمات کے لئے کوئی اضطراب اس نے میرے نزدیک آنے نہ دیا۔ایک ابتلا مجھے کو اس شادی کے وقت یہ پیش آیا کہ بباعث اس کے کہ میرا دل اور دماغ سخت کمزور تھا اور میں بہت سے امراض کا نشانہ رہ چکا تھا اور دو مرضیں یعنی ذیا بیطیس اور در دسر مع دوران سر قدیم سے میرے شامل حال تھیں جن کے ساتھ بعض اوقات تشیخ قلب بھی تھا اس لئے