سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 516 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 516

516 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اور شادی کروں یہ سب سامان میں خود ہی کروں گا اور تمہیں کسی بات کی تکلیف نہیں ہوگی۔“ اس میں یہ ایک فارسی فقرہ بھی ہے۔هر چه باید نو عروسے را ہمہ ساماں کنم وانچه مطلوب شما باشد عطائے آں کنم اور الہامات میں یہ بھی ظاہر کیا گیا کہ وہ قوم کے شریف اور عالی خاندان ہوں گے۔چنانچہ ایک الہام میں تھا کہ خدا نے تمہیں اچھے خاندان میں پیدا کیا اور پھر اچھے خاندان سے دامادی تعلق بخشا۔سو قبل از ظهور یہ تمام الہام لالہ شرمیت کو سنا دیا گیا۔پھر بخوبی اسے معلوم ہے کہ بغیر ظاہری تلاش اور محنت کے محض خدا تعالیٰ کی طرف سے تقریب نکل آئی۔یعنی نہایت نجیب اور شریف اور عالی بزرگوار خاندان سادات سے یہ تعلق قرابت اس عاجز کو پیدا ہوا اور اس نکاح کے تمام ضروری مصارف تیاری مکان وغیرہ تک ایسی آسانی سے خدا تعالیٰ نے بہم پہنچائے کہ ایک ذرا بھی فکر کرنا نہ پڑا اور اب تک اسی اپنے وعدے کو پورے کئے چلا جاتا ہے۔‘ ھے و تخمیناً اٹھارہ برس کے قریب عرصہ گزرا ہے کہ مجھے کسی تقریب سے مولوی محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر رسالہ اشاعۃ السنہ کے مکان پر جانے کا اتفاق ہوا۔اس نے مجھ سے دریافت کیا کہ آج کل کوئی الہام ہوا ہے؟ میں نے اس کو یہ الہام سنایا جس کو میں کئی دفعہ اپنے مخلصوں کو سنا چکا تھا اور وہ یہ ہے کہ بِكْرٌ وَّ ثَيِّبٌ جس کے یہ معنی ان کے آگے اور نیز ہر ایک کے آگے میں نے ظاہر کئے کہ خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ وہ دوعورتیں میرے نکاح میں لائے گا۔ایک بکر ہوگی اور دوسری بیوہ۔چنانچہ یہ الہام جو بکر کے متعلق تھا پورا ہو گیا اور اس وقت بفضلہ تعالیٰ چار پسر اس بیوی سے موجود ہیں اور بیوہ کے الہام کی انتظار ہے۔( نوٹ ) اس الہام میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اجتہاد میں غلطی واقع ہوئی۔اس لئے کہ پیشگوئیوں کی حقیقت تو وقوع میں آنے پر کھلتی ہے۔حضرت مسیح موعود اس الہام سے دو بیویوں کے متعلق پیشگوئی نزول الہام کے وقت سمجھے۔حقیقت میں یہ ایک ہی پیشگوئی تھی جو حضرت اُم المؤمنین ہی کے متعلق تھی اور اس میں خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کی پیشگوئی بھی تھی۔یہ شادی جس مبارک خاتون سے ہو گی وہ تیرے نکاح میں باکرہ آئے گی اور پھر تیری وفات پر بیوہ ہو