سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 515 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 515

515 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ دادے کا ذکر منقطع کیا جائے گا اور ابتداء خاندان کا تجھ سے ہوگا۔تجھے رعب کے ساتھ نصرت دی گئی ہے اور صدق کے ساتھ تو اے صدیق زندہ کیا گیا۔نصرت تیرے شامل حال ہوئی اور دشمنوں نے کہا کہ اب گریز کی جگہ نہیں اور اردو الہام کا خلاصہ یہ ہے کہ میں اپنی قدرت کے نشان دکھلاؤں گا اور ایک چمک پیدا ہوگی جیسا کہ بجلی سے آسمان کے کناروں میں ظاہر ہوتی ہے۔اس چمک سے میں لوگوں کو دکھلا دوں گا کہ تو سچا ہے۔اگر دنیا نے قبول نہ کیا تو کیا حرج کہ میں اپنا قبول کرنا لوگوں پر ظاہر کر دوں گا اور جیسا کہ سخت حملوں کے ساتھ تکذیب ہوئی ایسا ہی سخت حملوں کے ساتھ میں تیری سچائی ظاہر کر دوں گا۔غرض اس جگہ عربی الہام میں جیسا کہ نصرت کا لفظ واقع ہے اسی طرح میری خاتون کا نام نصرت جہاں بیگم رکھا گیا جس کے یہ معنی ہیں کہ جہاں کو فائدہ پہنچانے کے لئے آسمان سے نصرت شامل حال ہوگی اور اردو الہام جو بھی لکھا گیا ہے۔ایک عظیم الشان پیشگوئی پر مبنی ہے کیونکہ یہ الہام یہ خبر دیتا ہے کہ ایک وہ وقت آتا ہے جو سخت تکذیب ہوگی اور سخت اہانت اور تحقیر ہوگی۔تب خدا کی غیرت جوش میں آئے گی اور جیسا کہ بختی کے ساتھ تکذیب ہوئی ایسا ہی اللہ تعالیٰ سخت حملوں کے ساتھ اور آسمانی نشانوں کے ساتھ سچائی کا ثبوت دے گا اور اس کتاب کو پڑھ کر ہر ایک منصف معلوم کر لے گا کہ یہ پیشگوئی کیسی صفائی سے پوری ہوئی اور الہام مذکورہ بالا یعنی یہ الہام کہ الحمد لله الذي جَعَلَ لكم الصِهُرَ والنسب- جس کے یہ معنی ہیں کہ خدا نے تجھے ہر ایک پہلو اور ہر ایک طرف سے خاندانی نجابت کا شرف بخشا ہے۔کیا تیرا آبائی خاندان اور کیا دامادی کے رشتہ کا خاندان دونوں برگزیدہ ہیں یعنی جس جگہ تعلق دامادی کا ہوا ہے وہ بھی شریف خاندان سادات ہے اور تمہارا آبائی خاندان بھی جو بنی فارس اور بنی فاطمہ کے خون سے مرکب ہے خدا کے نزدیک شرف اور مرتبت رکھتا ہے۔( نوٹ از عرفانی کبیر ) سيرة ام المؤمنین کی جلد اول میں حضرت میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ عنہ کے خاندان کی عظمت کے متعلق جو تاریخی تحقیقات کی گئی ہے اس کی اصل غرض اور مقصد خدا تعالیٰ کے اس کلام کی صداقت کو ثابت کرنا تھا۔چنانچہ عزیز مکرم محمود احمد عرفانی مرحوم و مغفور نے جلد اوّل کے صفحہ ۲۵۵ پر ایک خاص عنوان ” میں نے یہ سب کچھ کیوں لکھا‘ قائم کر کے صراحت کی ہے اسے مکرر پڑھا جاوے (عرفانی کبیر ) ایک مرتبہ مسجد میں بوقت عصر یہ الہام ہوا کہ میں نے ارادہ کیا ہے کہ تمہاری ایک