سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 513 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 513

513 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ بھی مبارک نسل کا وعدہ تھا اور نیز یہ اس طرف اشارہ تھا کہ وہ بیوی سادات کی قوم میں سے ہوگی۔‘سے قریباً اٹھارہ برس (۱۸۸۱ء) سے ایک یہ پیشگوئی ہے۔الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ لَكُم الصهر والنسب - ترجمہ۔وہ خدا سچا خدا ہے جس نے تمہارا دامادی کا تعلق ایک شریف قوم سے جو سید تھے کیا اور خود تمہاری نسب کو شریف بنایا * جو فارسی خاندان اور سادات سے معجون مرکب ہے اس پیشگوئی کو دوسرے الہامات میں اور بھی تصریح سے بیان کیا گیا ہے۔یہاں تک کہ اس شہر کا نام بھی لیا گیا تھا جو دہلی ہے اور یہ پیشگوئی بہت سے لوگوں کو سنائی گئی تھی جن میں سے ایک شیخ حامد علی اور میاں جان محمد اور بعض دوسرے دوست ہیں اور ایسا ہی ہندوؤں میں سے شرمیت اور ملا وامل کھتریاں ساکنان قادیان کو قبل از وقت یہ پیشگوئی بتلائی گئی تھی اور جیسا کہ لکھا تھا ایسا ہی ظہور میں آیا کیونکہ بغیر سابق تعلقات قرابت اور رشتہ کے دہلی میں ایک شریف اور مشہور خاندان سیادت میں میری شادی ہوگئی اور یہ خاندان خواجہ میر درد کی لڑکی کی اولاد میں سے ہے جو مشاہیرا کا بر سادات دہلی میں سے ہے جن کو سلطنت حاشیہ: ہمارے خاندان کی قومیت ظاہر ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ قوم کے برلاس مغل ہیں اور ہمیشہ اس خاندان کے ا کا برا میر اور والیان ملک رہے ہیں وہ سمر قند سے کسی تفرقہ کی وجہ سے بابر بادشاہ کے وقت میں پنجاب میں آئے اور اس علاقہ کی ایک بڑی حکومت ان کو ملی اور کئی سو دیہات ان کی ملکیت تھے جو آ خر کم ہوتے ہوتے چوراسی (۸۴) رہ گئے اور سکھوں کے زمانے میں وہ بھی ہاتھ سے جاتے رہے۔اور پانچ گاؤں باقی رہ گئے اور پھر ایک گاؤں ان میں سے جس کا نام بہادر حسین سے تھا جس کو حسین نامی ایک بزرگ نے آباد کیا تھا۔انگریزی سلطنت کے عہد میں ہاتھ سے جاتا رہا۔کیونکہ ہم نے خودا پنی غفلت سے ایک مدت تک اس گاؤں سے کچھ وصول نہیں کیا تھا اور جیسا کہ مشہور چلا آتا ہے ہماری قوم کو سادات سے یہ تعلق رہا ہے کہ بعض دادیاں ہماری شریف اور مشہور خاندان سادات سے ہیں۔لیکن مغل قوم کے ہونے کے بارے میں خدا تعالیٰ کے الہام نے مخالفت کی ہے جیسا کہ براہین احمدیہ صفحہ ۲۴۲ میں یہ الہام ہے۔خُذوا التوحيد التوحيديا ابناء الفارس يعنی تو حید کو پکڑو تو حید کو پکڑ والے فارس کے بیٹو۔اس الہام سے صریح طور پر سمجھا جاتا ہے کہ ہمارے بزرگ در اصل بنی فارس ہیں اور قریب قیاس ہے کہ مرزا کا خطاب ان کو کسی بادشاہ کی طرف سے بطور لقب کے دیا گیا ہو۔لیکن الہام نے اس بات کا انکار نہیں کیا کہ سلسلہ مادری کی طرف سے ہمارا خاندان سادات سے ملتا ہے بلکہ الہامات میں اس کی تصدیق ہے اور ایسا ہی بعض کشوف میں بھی اس کی تصدیق پائی جاتی ہے۔اس جگہ یہ عجیب نکتہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے یہ ارادہ فرمایا کہ سادات کی اولاد کو کثرت سے دنیا میں بڑھاوے تو ایک شریف عورت فارسی الاصل کو یعنی شہر بانو کو ان کی دادی بنایا اور اس سے اہل بیت اور فارسی خاندان کے خون کو باہم ملا دیا اور ایسا ہی اس جگہ بھی جب خدا تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ اس عاجز کو دنیا کی اصلاح کے لئے پیدا کرے اور بہت سی اولا داور ذریت مجھ سے دنیا میں پھیلا دے جیسا کہ اس کے الہام میں ہے جو براہین احمدیہ کے صفحہ ۴۹۰ میں درج ہے۔تو پھر دوبارہ اس نے فارسی خاندان اور سادات کے خون کو باہم ملایا اور پھر میری اولاد کیلئے تیسری مرتبہ ان دونوں خونوں کو ملایا۔صرف فرق یہ رہا کہ حسینی خاندان کے قائم کرنے کے وقت مرد یعنی امام حسین اولا دفاطمہ میں سے تھا اور اس جگہ عورت یعنی میری بیوی اولا دفاطمہ میں سے یعنی سید ہے جس کا نام بجائے شہر بانوں کے نصرت جہاں بیگم ہے۔منہ لے یہ گاؤں بٹالہ سے شمالی طرف بہ فاصلہ تین کوس واقعہ ہے۔منہ