سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 507
507 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ ابتدائی زمانہ کی بات ہوگی۔ورنہ آخری زمانہ میں تو حضرت خلیفہ اول جو ایک ماہر طبیب تھے ہجرت کر کے قادیان آگئے تھے یا ممکن ہے کہ یہ کسی ایسے وقت کی بات ہو جب حضرت خلیفہ اول عارضی طور پر کسی سفر پر باہر گئے ہوں گے۔مگر بہر حال حضرت صاحب کے اعلیٰ اخلاق کا یہ ایک بین ثبوت ہے کہ ایک دشمن کی تکلیف کا سن کر بھی آپ کی طبیعت پر یشان ہوگئی اور آپ اس کی امداد کے لئے پہنچ گئے۔بسم الله الرحمن الرحيم (۴۷) حضرت والدہ صاحبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب کو کبھی کبھی پاؤں کے انگوٹھے پر نقرس کا درد ہو جایا کرتا تھا۔ایک دفعہ شروع میں گھٹنے کے جوڑ میں بھی درد ہوا تھا نہ معلوم وہ کیا تھا۔مگر دو تین دن زیادہ تکلیف رہی۔پھر جونکیں لگانے سے آرام آیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ نقرس کے درد میں آپ کا انگوٹھا سوج جاتا تھا اور سرخ ہو جا تا تھا اور بہت تکلیف ہوتی تھی۔خاکسار نے بھی درد نقرس حضرت صاحب سے ہی ورثہ میں پایا ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی کو بھی کبھی کبھی اس کی شکایت ہو جاتی ہے۔بسم الله الرحمن الرحيم (۴۸) حضرت والدہ صاحبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت صاحب کے ٹخنے کے پاس پھوڑا ہو گیا تھا جس پر حضرت صاحب نے اس پر سکتہ یعنی سیسہ کی ٹکیہ بندھوائی تھی جس سے آرام ہو گیا۔بسم سم الله الرحمن الرحيم (۴۹) ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو میں نے بارہا دیکھا کہ گھر میں نماز پڑھاتے تو حضرت ام المؤمنین کو اپنے دائیں جانب بطور مقتدی کے کھڑا کر لیتے۔حالانکہ مشہور فقہی مسئلہ یہ ہے کہ خواہ عورت اکیلی ہی مقتدی ہو تب بھی اسے مرد کے ساتھ نہیں بلکہ الگ پیچھے کھڑا ہونا چاہئے۔ہاں اکیلا مر د مقتدی ہو تو اسے امام کے ساتھ دائیں طرف کھڑا ہونا چاہئے۔میں نے حضرت اُم المؤمنین سے پوچھا تو انہوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ حضرت صاحب نے مجھ سے یہ بھی فرمایا تھا کہ مجھے بعض اوقات کھڑے ہو کر چکر آ جاتا ہے اس لئے تم میرے پاس کھڑے ہو کر پڑھ لیا کرو۔