سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 485 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 485

485 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کا نام برسوں سے سنتا آ رہا تھا۔ہر مکان کو دیکھتا ہر مکین پر نظریں جما تا۔بازار کو دیکھتا اور دکانداروں کو گھورتا اس شہر نما قصبہ میں گزرتا رہا۔قادیان کی وضع تو پنجاب کے اور قصبوں کی سی ہے۔مگر جماعت کے اتحاد، اتفاق اور تنظیم نے اس کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔بڑے بڑے بنگلہ، خانہ باغ ، سڑک، مدرسے، بورڈنگ ہاؤس ، اسپتال ، بازار اور ساہوکارہ ، برقی پریس، اطباء یونانی ، ویدک دواخانہ، کارخانے جیسی چیزیں یہاں موجود ہیں۔یہاں کی آبادی میں حضرت مسیح موعود کے خاندان کے افراد آباد ہیں۔جماعت کے کارکن آباد ہیں۔وہ بھی آباد ہیں جو اعتقاد و ایمان سے قربت چاہتے ہیں اور وہ بھی ہیں جو قربت حاصل کر چکے ہیں۔ایسے بھی ہیں جو ترک وطن کر کے آباد ہوئے ہیں۔ایسے بھی ہیں جو جماعت کی خاطر مقیم ہیں۔ایسے طالب علم بھی ہیں جو شوق تبلیغ میں علم حاصل کر رہے ہیں۔ایسے طالب علم بھی ہیں جو مدارس میں ابتدائی تعلیم کے لئے بورڈنگ میں ہیں۔جماعت کا ہر شعبہ ایک افسر کی نگرانی میں ہے اور اس افسر کا عملہ اور دفتر علیحدہ ہے۔تمام دنیا کے ڈاکخانوں سے یہاں ڈاک آتی ہے اور جاتی ہے۔تار آتے ہیں اور جاتے ہیں۔اس لئے قادیان کو قصبہ کہنا تو غلطی ہے۔اچھا خاصہ شہر ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ روز بروز اس میں ترقی ہی ہوگی کیونکہ جواں ہمت اور جواں عزم جماعت کام کر رہی ہے اور پابند ملت مسلمانوں کی بستی ہے جو بستے بستے بستی ہے۔عرفانی صاحب کے ساتھ میں جماعت کے مقامات دیکھتا۔یادگاروں پر نظر ڈالتا قدیم بستی میں آپا نصرت جہاں بیگم کے پاس پہنچا۔یہاں جماعت کی طرف سے مسلح پہرہ ہے۔اطلاع کرائی گئی اور زنانہ میں بلالیا گیا۔آپا نے بڑھ کر مجھے اپنے کمرہ میں لیا اور نہایت کراری آواز سے سلام علیکم کہا۔مزاج پوچھا۔خیریت دریافت کی۔حالات پوچھے گزرے ہوؤں کا ذکر کیا۔زندوں کو دعا دی عزیزوں کو نام بنام دریافت کیا اور پھر حاضر ہونے کے وعدہ پر میاں بشیر الدین محمود احمد صاحب سے ملنے باہر چل دیا۔میاں مجھ سے ایک سال چھوٹے ہیں۔پنجاب کی آب و ہوا میں رہ کر وہ کسب علم اور جماعت کی ضروریات کے انہماک میں رہ کر مجھ سے بڑے معلوم ہوتے ہیں۔قومی مغلوں کے سے ہیں۔آنکھوں میں چمک ویسی ہی ہے۔چہرے کی دونوں ہڈیاں ابھری ہوئی ہیں۔کشادہ پیشانی ، بلند قامت ہیں۔گفتار اور رفتار میں مردانہ وضع ہے۔میاں جس مکان میں رہتے ہیں یہ اور بھائیوں کے مکانات سے ملا ہوا ہے۔حصے جدا جدا ہیں مگر آپس میں سب ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں۔ان