سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 477 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 477

477 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ موجود تھی۔مبارک باد دی۔نیز فرمایا شکر ہے میرے بیٹے کو اللہ تعالیٰ نے رہائی دی۔میں تو ہر نماز میں اس کیلئے دعائیں کرتی رہی ہوں اور فرمایا کہ ہماری طرف سے شیخ صاحب (اس عاجز ) کولکھ دو کہ مقدمات کرنے والوں پر کوئی کارروائی نہ کریں اور انہیں معاف کر دیں۔اللہ اللہ شفقت اور غریب نوازی کی بھی حد ہوتی ہے۔دشمنوں اور ایسے شدید دشمنوں کے لئے جنہوں نے مجھے دوسال تک سخت تکلیف میں ڈالے رکھا۔معافی کی تلقین فرمائی۔الغرض ہم حضرت اقدس سیدتنا اُم المؤمنین مدظلہ العالی (مَتَعْنَا اللهُ بِطُولِ حَيَا تِهَا) کے حسن سلوک، اخلاق کریمانہ ، شفقت، ذرہ نوازی وغیرہ کو کہاں تک بیان کریں۔یہی دس روایات ہیں۔براہ کرم درج فرما دیں۔خاکسار نیاز محمد عفی عنہ پنشر انسپکٹر پولیس دار الرحمت۔قادیان متفرق روایات ذیل میں کچھ اور روایات درج کی جاتی ہیں جن سے حضرت اُم المؤمنین کی سیرۃ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی پڑتی ہے۔عرفانی کبیر والدہ صاحبہ ڈاکٹر محمد احمد صاحب فرماتی ہیں: قبولیت دعا قبولیت دعا کا مجھے بار ہا تجربہ ہوا ہے۔میرے بچے اکثر بیمار ہوتے تو میں گھبرا کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتی اور دعا کیلئے عرض کرتی۔عرض کرنے کے بعد میرے دل کو اطمینان حاصل ہو جاتا اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بچہ کو بہت جلد شفاء بھی ہو جاتی۔قبولیت دعا کا نمایاں نشان جو میں نے دیکھا وہ یہ ہے کہ اکثر بیمار رہنے کی وجہ سے میری آنکھوں میں اڑ تمیں سال کی عمر میں ہی موتیا اتر نا شروع ہو گیا۔نظر بند ہونے پر ڈاکٹر صاحب نے آنکھ کا آپریشن کیا۔آپریشن کرنے کے چار دن بعد میری آنکھ میں شدید درد اُٹھا۔ایسا معلوم ہوا کہ کوئی رگ پھٹ گئی ہے۔مغرب کا وقت تھا اور ڈاکٹر صاحب نماز پڑھ کر گھر میں آئے ہی تھے۔آتے آنکھ کی پٹی کھولی تو معلوم ہوا کہ تمام آنکھ خون سے سرخ پڑگئی ہے اور مجھے اس وقت نظر بھی کچھ نہ آتا تھا۔ڈاکٹر صاحب نے اسی وقت حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز