سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 473 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 473

473 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت بابرکت میں بھی عرض کی کہ حضرت اماں جان کو کراچی بھیجیں مگر اس عاجز کی بدقسمتی سے حضرت سیدہ اس وقت حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کے ساتھ کراچی تشریف لے گئیں جب کہ یہ عاجز کراچی سے تبدیل ہو گیا تھا اور یہ عاجز اس خدمت سے محروم رہا۔بہر حال انہی ایام میں یہ عاجز کسی طرح سے کراچی گیا اور حضرت اماں جان کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ تو ہمیں علم ہو گیا تھا کہ تم کراچی سے تبدیل ہو کر چلے گئے ہوئے ہو۔مگر میں نے سمجھا کہ تم ضرور کراچی آکر ملو گے۔اس لئے میں تمہارے گھر سے ہوتی آئی ہوں۔تمہارے مکان کے صحن میں پختہ اینٹوں کا فرش لگ گیا ہے جو میں دیکھ آئی ہوں اور پھر سب اہلِ بیت کا فرداً فرداً حال بیان فرمایا اور اس بات پر افسوس کا اظہار فرمایا کہ میں اس وقت کراچی میں نہ تھا۔کیا یہ حد درجہ کی شفقت اور غریب نوازی نہیں کہ اگر چہ میں اس وقت کراچی میں نہ تھا۔پھر بھی خاص طور پر قادیان میں ہمارے ر غریب خانہ سے سب اہل خانہ کا احوال پوچھ کر آنا۔یقینا ایک ایسا فعل ہے جس کی عزیز ترین اقارب سے بھی بعض اوقات توقع نہیں ہوتی اور بالخصوص جبکہ آقا اور غلام کا تعلق ہو۔تو پھر تو ناممکن ہے۔مگر اس سیدۃ النساء نے محبت اور شفقت اور غریب نوازی کا عدیم المثال نمونہ مجھ سے حقیر و نا چیز غلام - دکھایا۔ނ ۵۔میری اہلیہ بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ میں سندھ سے جہاں میں ملازم تھا۔دار الامان میں کچھ عرصہ کے بعد آئی۔بوجہ لمبے سفر اور تھکاوٹ کے طبیعت خراب تھی۔اس لئے میں ایک دو دن حضرت سیدہ ام المؤمنین سلمہا اللہ تعالیٰ کی خدمت اقدس میں حاضر نہ ہوسکی۔دوسرے دن بعد دو پہر کیا دیکھتی ہوں کہ حضرت سیدہ بذات خود ہم عاجزوں کے غریب خانہ میں تشریف لے آئیں اور فرمایا۔”ہم تو تمہیں یا در کھتے ہیں۔تم آئی ہو تو ملنے بھی نہیں آئی۔ہم نے کہا چلو ہم ہی جا کر تمہیں مل آئیں۔“ اور پھر دیر تک غریب خانہ میں قیام فرمایا اور نہایت محبت و شفقت کا اظہار فرماتی رہیں اور اس عاجز ، احقر العباد کا احوال دریافت فرماتی رہیں۔میری اہلیہ کہتی ہیں کہ اس کمال غریب نوازی کو دیکھ کر میں از حد نادم ہوئی اور مارے ندامت کے پانی پانی ہو گئی۔۲۔میری اہلیہ بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ گرمی کے موسم میں میں حضرت سیدہ ام المومین (مَتَعْنَا اللَّهُ بِطُولِ حَيَاتِهَا) کی خدمت اقدس میں الدار مسیح الموعود میں حاضر ہوئی۔وہاں مجھے کچھ دیر کے