سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 467
467 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ یہ دو واقعات مجھے بچپن سے اچھی طرح یاد ہیں جو بجائے خود مادر مہربان کی شفقت و چشم پوشی پر دال ہیں۔اول صورت میں ایک معمولی چھوٹے سے دیہاتی لڑکے پر اس قدر ذاتی توجہ مبذول فرمانا کہ اس کی خاطر تواضع کے لئے خود کرسی لا کر اس پر بٹھانا اور خود ناشتہ پیش کرنا اور پھر ایسی صورت میں کہ عام مائیں جب کہ اتنا ننھا سا بچہ بے احتیاطی سے خطرہ میں ڈال دیا جائے۔بے حد ناراض ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی ہیں مگر آپ نے اس واقعہ کو معمولی بنسی کا واقعہ قرار دے دیا۔یہ بجائے ناراضگی ولعن طعن کے اطمینان سے ایک غیر معمولی عادت اور وسیع حوصلہ کی دلیل ہے۔حضور از راه شفقت خاص اب بھی غلام زادے پر اسی طرح مہربان اور محبت و پیار سے انہیں اپنا گرویدہ بنارکھا ہے۔چنانچہ بعد از نماز جمعہ جب کہ فراغت ہوتی ہے۔ننھے بچے با قاعدہ حضور کو سلام و آداب کہنے اور دعا کے لئے عرض کرنے کے لئے حاضر ہوتے ہیں۔نوٹ : عزیز ارشد نے خود ہی ان واقعات کو آپ کی سیرۃ مطہرہ کا ایک روشن پہلو قرار دیا ہے۔میں اس پر اس قدر اضافہ کرتا ہوں کہ حضرت اُم المؤمنین کی سیرۃ میں اَکرِ مُوا اولاد کم کے پہلو پر بھی روشنی پڑتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اپنے بچوں کو عزت کی نظر سے دیکھا کرو اس طریق سے خودان میں بھی تکریم ذاتی (سلف رسپیکٹ ) کا مادہ پیدا ہوتا ہے اور وہ دوسروں کا ادب کرنا بھی سیکھتے ہیں اور اس میں اکرام ضیف کی شان بھی نمایاں ہے۔ارشد گو بچہ ہی تھا مگر بہر حال حضرت سیّدہ کے حضور تو وہ ایک مہمان کی حیثیت سے گیا تھا۔وہ اپنے لئے یہی بڑی سعادت اور عزت یقین کرتا تھا کہ حضرت اُم المؤمنین کو دیکھا مگر حضرت سیدہ نے اس کے ساتھ وہ سلوک فرمایا جو آپ کے شایان شان تھا اور اپنے طرز عمل کو جو عام طور پر ہر قسم کے آنے والے مہمانوں کے ساتھ آپ کا ہے محض ایک دیہاتی بچہ سمجھ کر تبدیل نہیں فرمایا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عمل آپ کا روز مرہ کا عادتی عمل تھا جس میں کسی قسم کا تکلف ریا اور نمائش نہ تھی اس واقعہ سے ایک اور امر پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ اس گھر کی عام تربیت کیسی تھی ؟ بڑے گھروں کے بچوں میں ایک قسم کی کبریائی پائی جایا کرتی ہے مگر یہاں حضرت میر محمد اسحق رضی اللہ عنہ کو قاضی اکمل نے بدر کے حجرہ میں بیٹھے بیٹھے حکم دیا کہ میاں اسے حضرت ائم المؤمنین کے پاس لے جاؤ اور وہ ایک فرمانبردار خادم کی طرح ساتھ ہو جاتے ہیں۔مجھے یاد ہے کہ