سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 459
459 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ پر فضل و احسان فرمایا کہ ان کو اپنے مسیحا کے لئے چن لیا مگر انہوں نے بھی خدا کی ہی نصرت کے ساتھ دکھا دیا وہ اس کی اہل ہیں اور اس انعام اور احسانِ خداوندی کی بے قدری و ناشکری ان سے کبھی ظہور میں نہیں آئی اور خدا کا شکر ہے کہ یہ بارانِ رحمت بے جگہ نہیں برسا بلکہ بارآور زمین اس سے فیضیاب ہوئی۔زیادہ کیا لکھوں مجمل طور سے آپ کی چند خصوصیات اور خوبیوں کا ذکر لکھ دیتی ہوں۔۲۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ تک بیشک ہمارے دلوں پر آپ کی شفقت کا اثر والدہ صاحبہ سے زیادہ تھا مگر آپ کے بعد آپ کو دنیا کی بہترین شفیق ماں پایا اور آج تک وہ شفقت و محبت روز افزوں ثابت ہو رہی ہے ہمیشہ آپ کی کوشش رہی ہے۔خصوصا لڑکیوں کے لئے کہ ان کے مہربان باپ کی کمی کو پورا فرماتی رہیں یہ تڑپ اس لئے بھی رہی کہ دراصل آپ کو حضرت اقدس کی ہم پر مہر و محبت و شفقت کا خوب اندازہ تھا اور آپ خود با وجو د سب سے اچھی ماں ہونے کے آج تک ہمارے لئے ایک کمی ہی محسوس کئے جا رہی ہیں اور مہربانیوں سے آپ کا دل بھر نہیں چلتا۔خدا آپ کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے۔آمین۔مجھے آپ کا ستی کرنا کبھی یاد نہیں پھر بھی آپ کا ایک رُعب خاص تھا اور ہم بہ نسبت آپ کے حضرت مسیح موعود سے دنیا کے عام قاعدہ کے خلاف بہت زیادہ بے تکلف تھے اور مجھے یاد ہے کہ حضور اقدس کے حضرت والدہ صاحبہ کے بے حد قدر و محبت کرنے کی وجہ سے آپ کی قدر میرے دل میں بھی بڑھا کرتی تھی۔آپ با وجود اس کے کہ انتہائی خاطر داری اور ناز برداری آپ کی حضرت اقدس کو محوظ رہتی کبھی حضور کے مرتبہ کو نہ بھولتی تھیں۔بے تکلفی میں بھی آپ پر پختہ ایمان اور اس وجود مبارک کی پہچان آپ کے ہر انداز و کلام سے ترشح تھی جو مجھے آج تک خوب یاد ہے۔آخر میں بار با روفات کے متعلق الہامات ہوئے تو ان دنوں بہت غمگین رہتیں اور کئی بار میں نے آپ کو اور حضرت مسیح موعود کو اس امر کے متعلق باتیں کرتے سنا حضور اقدس بشاش رو تھے مگر والدہ صاحبہ کی اس امر کے متعلق اداسی کا اثر لیتے اور خود بھی ذرا خاموش ہو جاتے۔ایک بار مجھے یاد ہے کہ حضرت والدہ صاحبہ نے حضرت اقدس سے کہا ( ایک دن تنہائی میں الگ نماز پڑھنے سے پہلے نیت باندھنے سے پیشتر ) کہ میں ہمیشہ دعا کرتی ہوں کہ خدا مجھے آپ کا غم نہ