سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 458 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 458

458 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ حضرت نواب سیدہ مبارکہ بیگم صاحبہ کا سیرت اُم المؤمنین پر جامع بیان میں حضرت نواب سیدہ مبارکہ بیگم صاحبہ کے بیان کا کچھ حصہ تربیت اولاد کے ضمن میں درج کر چکا ہوں لیکن آپ نے جو ایک مختصر اور جامع بیان از راہ کرم با وجود اپنی مصروفیتوں کے لکھ کر بھیجا ہے۔میں اسے تبر گا اس شائع شدہ حصہ کو چھوڑ کر درج کر دینا ضروری سمجھتا ہوں۔محمود احمد عرفانی نو بہار (شملہ ایسٹ) برادرم مکرم محمود احمد صاحب سلمک اللہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کا خط قادیان میں مجھے ملا اور جناب شیخ صاحب مکرم کا بھی۔مگر ان دنوں مجھے سر درد کے کئی کئی روز کے دورے ہو رہے تھے میں آپ کے خطوں کا جواب نہ لکھ سکی اور دن گزر گئے پھر سفر کی تیاری میں وقت گزرا اور سفر میں ہی پندرہ دن لگ گئے کیونکہ ڈلہوزی کا راستہ ٹھیک ہونے کے انتظار میں پٹھانکوٹ پڑے رہے آخر تنگ آکر شملہ کا رُخ کیا۔یہاں آ کر با وجود روز ارادہ کرنے کے لکھ نہ سکی کیونکہ یہاں علیل رہی۔حضرت والدہ ماجدہ صاحبہ کے متعلق تو بہت کچھ لکھنے کو دل چاہتا ہے اور یہ موضوع ایسا ہے جس سے سیری نہیں ہوسکتی مگر طبیعت کی خرابی سر کی کمزوری خاص کر زیادہ لکھنے مانع رہی اور ہے۔اس مبارک وجود کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو مصرع تحریر فرما دیا وہی ایسا جامع ہے کہ اس سے بڑھ کر تعریف نہیں ہو سکتی۔یعنی چن لیا تو نے مجھے اپنے مسیحا کے لئے“ اللہ تعالیٰ کا کسی کو چن لینا کیا چیز ہے اسی پر قیاس کیا جا سکتا ہے کہ اس محسن و رحمن خدا نے کیا کیا جو ہر اس روح میں رکھ دیئے ہونگے جس کو اس نے اپنے مسحا کیلئے تخلیق کیا۔میں ان کی تعریف اس لئے نہیں کروں گی کہ وہ میری والدہ ہیں بلکہ اس نظر سے کہ وہ فی زمانہ مومنوں کی ماں ہیں اور خدا کو حاضر و ناظر جان کر اس امر کی گواہی ہمیشہ دوں گی کہ وہ اس منصب کے قابل ہیں۔خدا نے میری والدہ