سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 34
34 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ مجھ کو کیا ملکوں سے میرا ملک ہے سب سے جُدا مجھ کو کیا تاجوں سے میرا تاج ہے رضوانِ یار خلاصہ یہ کہ جو خدا کے ہو رہتے ہیں اُن کو اس دنیا کی کسی چیز سے اُلفت نہیں ہوتی اور وہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ الدنيا جيفةٌ وَطَالِبُها كلاب الغرض حضرت خواجہ سید محمد طاہر صاحب نے شاہی عطاء کو قبول نہ کیا۔اور نگ زیب نے کیا کچھ پیش کیا ہو گا اس کی تفصیل کسی کو معلوم نہیں مگر اس امر سے بخوبی اندازہ لگ سکتا ہے کہ اورنگ زیب خود شاہنشاہ ہند تھا اور جس کو وہ پیشکش کر رہا تھا وہ اس کا مرشد زادہ بلکہ ایک رنگ میں مرشد ہی تھا کیونکہ ایک روایت یہ بھی ہے کہ اورنگ زیب کو انہی کی دعا سے تاج و تخت ملا تھا۔اس لئے اس نے جو کچھ پیش کیا ہو گا اس کا تصور بآسانی ہوسکتا ہے۔حضرت خواجہ کے اس استغناء اور سیر چشمی نے اور بھی جادو کا سا اثر کیا اور وہ ہمیشہ کے لئے ان کے حلقہ بگوشوں میں شامل ہو گیا اور اس طرح شاہنشاہ ہند ایک درویش کے قدموں میں آ گیا۔اس کی عقیدتمندی کی یہ حالت تھی کہ وہ خود بنفس نفیس در خواجہ پر حاضری دیا کرتا تھا۔سے خواجہ سید محمد طاہر کے بیٹوں کے نکاح میں مغل شاہزادیاں کچھ عرصہ کے بعد خواجہ سید محمد طاہر صاحب نے ارادہ ظاہر کیا کہ وہ حرمین کو جانا چاہتے ہیں۔اور نگ زیب ان کو اس پاک مقصد سے روک نہ سکتا تھا اور ان برکات سے بھی محروم نہ ہونا چاہتا تھا جو اس بزرگ خاندان کے قدموں کی برکت سے حاصل ہو رہی تھیں۔اس لئے اس نے بصد اخلاص وارادت عرض کی کہ آپ اپنے تینوں صاحبزادے اور اپنے بھتیجہ کو میرے پاس چھوڑ جائیے تا کہ ان کی برکت سے لال قلعہ معمور رہے۔شاہنشاہ ہند کی یہ درخواست منظور ہوئی اور انہوں نے اپنے تین صاحبزادے خواجہ سید محمد صالح اور خواجہ سید محمد یعقوب اور خواجہ سید فتح اللہ صاحب کو معہ اپنے ایک بھتیجہ کو جن کا نام معلوم نہیں ہو سکا حسبِ استدعا اور نگ زیب بادشاہ ہند دہلی میں چھوڑا۔بادشاہ نے ان چاروں کو بڑے بڑے عہدے اور بڑے بڑے منصب دے کر اور نگ زیبی در بار کے رکن بنالیا۔اسی پر بس نہیں کی بلکہ خواجہ محمد صالح اور خواجہ محمد یعقوب کو جو کنوارے تھے اپنے حقیقی بھائی شہزادہ مراد کی دو خوبصورت حسینہ و جمیلہ بیٹیاں بیاہ دیں اور اس طرح اس خاندان سے نہ صرف اپنی