سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 33 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 33

33 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ لال قلعہ میں دعوت میں یہاں لال قلعہ کی رونق اور شوکت اور عظمت و جلال کی تاریخ نہیں لکھنی چاہتا گر ہر شخص جسے اسلامی ہند کی تاریخ سے ذرا بھی مس ہو وہ لال قلعہ کی عظمت سے بخوبی واقف ہوگا۔لال قلعہ اُس وقت دنیا میں سب سے بڑا قصر شاہی تھا اس وقت مغلیہ سلطنت کا ڈنکہ چار دانگ عالم میں بج رہا تھا۔اور نگ زیب کی فوج ظفر موج کے سامنے اس وقت ہندوستان کی کوئی فوج ٹھہر نہ سکتی تھی۔تمام ہندوستان پر اس کا چتر حکومت چھا رہا تھا۔لال قلعہ اس زمانہ میں ایک نو عروس کی طرح سے سجا ہوا تھا۔فوجوں کے پرے افسران کی بھر کیلی وردیاں ، درباریوں کا مؤ ڈب اور باوقار ہونا ہر شخص کے قلب میں ایک ہیبت طاری کرتا تھا۔نوکر چاکر ، لونڈیاں غلام ادھر سے اُدھر بھاگے پھرتے تھے۔شاہزادوں اور شاہزادیوں بیگمات اور خواصوں کے معطر لباسوں سے قلعہ کی فضاء دنیا کی دیگر فضاء سے بالکل الگ معلوم ہوتی تھی۔ایسے مقام عالی میں جہاں سے شاہنشاہ ہند حکومت کرتا ہو جب کسی کی دعوت کرتا ہوگا تو اس وقت قلعہ معلے کی کیا حالت ہوتی ہوگی اور کیسی گہما گہمی ہوتی ہوگی۔الغرض بادشاہ ہند شہنشاہ اورنگ زیب نے اس اخلاص کی وجہ سے جو ان کو اپنے پیر ومرشد حضرت سید بہاءالدین نقشبند سے تھا حضرت سید محمد طاہر صاحب کی لال قلعہ میں دعوت کی۔شاہنشاہ درویش کے قدموں میں شاہنشاہ نے بنفس نفیس اُن کا استقبال کیا اور بڑی تواضع اور ادب سے اُن کو مسند پر بٹھایا۔چونکہ اور نگ زیب خود طریقہ نقشبندیہ میں مرید تھا اس لئے سید محمد طاہر کا وجود اس کے لئے اپنے پیر ومرشد کے ہی قائم مقام تھا۔کھانا کھا چکنے کے بعد بادشاہ نے بہت کچھ نقد جنس حسب دستور شاہانِ مغلیہ اپنے مرشد زادہ کو پیش کرنا چاہا۔مگر اُن کی نگاہ میں یہ زر و جواہر اور یہ دنیا کے مال و منال کوئی حقیقت نہ رکھتے تھے۔انہوں نے آنکھ اٹھا کر بھی اُن کی طرف نہ دیکھا اور اُن کو قبول نہ کیا۔یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کی محبت میں فنا ہو جاتے ہیں اُن کی نگاہ میں دنیا کی ان قیمتی اشیاء کی قیمت ایک جیفہ ( مُردار ) سے زیادہ نہیں ہوتی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔