سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 32 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 32

32 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ سوم: شاہنشاہ ہند نے فوراً خواجہ محمد نصیر کو دربار میں اعزاز اور منصب سے سرفراز کیا جو اس امر کی دلیل ہے کہ یہ خاندان بخارا میں کوئی غیر معروف نہ تھا بلکہ ان کی بزرگی علمی قابلیت ، وجاہت ، عالی نسبی کا اس سے بسہولت پتہ چلتا ہے۔چہارم : ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ حصول ملازمت کے لئے نہیں آئے تھے بلکہ شاہجہان کے ایماء پر ہی آئے تھے۔بخارا ان ایام میں علوم اسلامیہ ہی کا مرکز نہ تھا بلکہ وہاں خدا رسیدہ بزرگوں کی بھی جماعت تھی اور شاہجہان وہاں سے علوم دینیہ کے ماہر اور اہل دل لوگوں کو بلانے کے لئے خاص شوق رکھتا تھا اور عالی نسب، ذی علم ، خدا پرست لوگوں کی جماعت جمع کرنا چاہتا تھا۔اسی سلسلہ میں انہوں نے خواجہ محمد نصیر کو بلایا تھا۔تبھی بغیر کسی تردد کے ان کو اتنی جلدی فی الفور منصہ وزارت جیسے وقیع منصب پر فائز کر دیا گیا۔وہ صرف صاحب سیاست ہی نہ تھے بلکہ صاحب السیف بھی تھے۔گویا کہ بیک وقت ایک اعلیٰ درجہ کے سیاستدان اور ایک عمدہ جرنیل تھے۔اس سے اس خاندان کی عزت، عظمت کا بآسانی اندازہ لگ سکتا ہے خواجہ محمد نصیر صاحب وزیر صوبہ بنگال کے بعد ان کے صاحبزادے سید عبدالقادر بالکل دنیا سے الگ ہو گئے۔خواجہ محمدنصیر کا ذکر تو صرف اس قدر بتانے کے لئے کیا گیا کہ بخاری سادات نقشبندیہ کا پہلا قافلہ آپ کی قیادت میں آیا اور آپ بھی اپنے زمانے کے بہت بڑے سیاست دان اور بہت بڑے جرنیل تھے۔مگر جس خاندان کا ذکر مقصود بالذات ہے وہ حضرت خواجہ سید محمد طاہر صاحب کا خاندان ہے۔یہ بزرگ بھی حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند کے خاندان سے تھے اور یہ حضرت اُم المؤمنین علیہا السلام کے خاندان کے مورث اعلیٰ تھے۔حضرت خواجہ سید محمد طاہر صاحب اس دوسرے قافلہ کے سردار تھے جو بخارا سے وارد ہند وستان ہوا۔یہ زمانہ شاہنشاہ اورنگ زیب کا زمانہ تھا۔واقعات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس قافلہ کی آمد پر پہلے ہی سے اور نگ زیب کی آنکھیں لگی ہوئی تھیں کیونکہ اور نگ زیب خود خواجہ خواجگان حضرت بہاء الدین نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کے طریقہ نقشبندیہ میں بیعت تھا اس لئے اور نگ زیب بادشاہ ہند نے ان کے فور اورودِ ہند ہونے پر ان کو دہلی کی مشہور تاریخی یادگار میں جو اس زمانہ میں دنیا کا بہت بڑا پر رعب و جلال قلعہ تھا دعوت دی۔