سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 444 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 444

444 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ لا ہور میں جب تشریف لے جایا کرتی ہیں اور اختر صاحب وہاں تھے تو اکثر ان کے ہاں قیام فرما ہوتیں اور ان کو ایسے حالات دیکھنے کا خوب موقع ملتا چنا نچہ وہ لکھتے ہیں کہ : ایک خاص وصف جو میرے مطالعہ میں آیا وہ یہ ہے کہ جب کبھی بھی آپ قادیان سے باہر تشریف لے جاتی ہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کے گھر والوں سے بھی ضرور ملاقات فرماتی ہیں۔واپسی پر خواہ چند ھوں کیلئے ہی ہو۔سب کے گھر خواہ عرف عام کے لحاظ سے غریب ہوں یا امیر اپنے ملاقاتیوں سے ملتی ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کے گھر والوں سے خاص طور پر محبت رکھتی ہیں اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعاوی اور صداقت پر آپ کو کس قدر یقین ہے اور اس ایمان نے آپ کے قلب میں اس جماعت مومنین کے لئے ایک خاص شفقت اور محبت پیدا کردی ہے۔جنہوں نے ان ابتدائی ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو قبول کیا۔“ حضرت ام المؤمنین کے اس طرز عمل پر مجھے کسی ریمارک کی ضرورت نہیں اس میں آپ کی سیرت مبارکہ کے کئی پہلور وشنی میں آتے ہیں۔عام طور پر پیروں اور مرشدوں کے گھر کا بچہ بچہ اپنا مقام اتنا بلند سمجھتا ہے کہ وہ اپنے مریدوں کو نہایت حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں ان کو اپنے برابر بیٹھنے کی اجازت نہیں ساتھ کھلانے کا حق نہیں۔ان کے گھروں میں جا کر ان سے مواسات اور اخلاق کا برتاؤ کرنا جائز نہیں سمجھا جاتا۔ان کی دنیا بالکل الگ ہوتی ہے اور وہ اپنے آپ کو انسانیت کے مقام سے بالا تر یقین کرتے ہیں۔برخلاف اس کے ہماری اُم المؤمنین اور اس خاندان کے افراد کی حالت بالکل جدا ہے وہ اپنی اس خداداد عظمت اور عزت کے باوجود دوسروں کے ساتھ برابر کا برتاؤ کرنا اپنی روحانی تکمیل کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور اپنے فرائض کا ایک اہم جزو۔مجھے تعجب ہوتا ہے جب میں معلوم کر کے سب کچھ محروم ہو گئے ہیں“ کے مصداق لوگوں کو یہ کہتے سنتا ہوں کہ گڈی بنا دی گئی ہے۔کاش عداوت نے ان کی آنکھوں پر پردے نہ ڈال دئیے ہوتے اور ان کے دل و دماغ سے فہم وفکر کی قوتوں کو مسلوب نہ کر دیا ہوتا میں اپنے ذاتی تجربہ اور علم کی بناء پر کہتا ہوں کہ : ان پاک نفوس میں میں نے کبھی رعونت اور تکبر کو نہ دیکھا۔میں نے اپنی علالت کے ایام میں