سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 436 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 436

436 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ جان نے اپنے اہتمام سے کرائے تھے۔حضرت اماں جان جب کبھی کسی سفر پر جانتیں تو میں تقریباً ہر سفر میں ساتھ ہوتا تھا۔فیروز پور ،لودھیانہ، دہلی اور لاہور جاتا رہا ہوں اور جب کبھی کسی چیز کے امرتسر سے لانے کی ضرورت ہوتی تو حضرت اماں جان مجھے فرماتی تھیں اور میں جا کر لے آتا تھا اور کبھی اس معاملہ میں مجھ پر سختی یا تشدد نہ فرمایا۔حضرت اماں جان کے سایہ میں ہم اسی طرح زندگی گزارتے رہے ہیں جس طرح گھر کے ہی افراد ہوتے ہیں اپنے بچوں کی طرح ہم کو بھی پیسے جیب خرچ کے ملتے تھے۔کپڑے بھی اماں جان خود بنوا کر دیتی تھیں اور بہت ہی شفقت اور مہربانی سے پیش آتی تھیں کہ وہ شفقت ہم نے اپنی ماں میں بھی نہیں دیکھی۔اللہ تعالیٰ ان کی زندگی میں برکت دے اور یہ رحمت و شفقت کا سایہ تادیر ہمارے سروں پر سلامت رہے۔آمین ایک مرتبہ پولیس نے مجھے گرفتار کر لیا میری بیوی نے حضرت اُم المؤمنین سے جا کر کہا آپ نے اسی وقت حضرت امیر المومنین کو کہا کہ ہمارے چراغ کو پولیس نے پکڑ لیا ہے حضرت نے توجہ فرمائی اور میں گھر آ گیا۔یہ بیان ہے ایک ایسے شخص کا جس نے اپنی زندگی کا ابتدائی حصہ حضرت اُم المؤمنین کے سایہ میں مسلسل گزارا اور اس کے بعد بھی اس مادر مہربان کی شفقت سے بہرہ اندوز ہوتارہا۔انسان کبھی نہ کبھی اپنی اولاد کی غلطیوں اور عزیزوں کی خطاؤں پر بھی خفا ہو جاتا ہے اور کچھ نہ کچھ تلخی اور سخی پیدا ہو جاتی ہے مگر یہ کیسا قلب سلیم ہے جو رحمت اور شفقت ہی سے خمیر کیا گیا ہے۔غصہ اور ناراضگی کی آلائشوں سے اُسے خدا تعالیٰ نے آپ دھوڈالا ہے۔قرآن مجید کی اس آیت فَامَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرُ کی یہ عملی تفسیر ہے۔یہ ایک واقعہ نہیں ایسے بہت سے واقعات ہیں۔حضرت اُم المؤمنین کو ہمیشہ اس امر کا خیال رہتا ہے کہ کسی کی دل شکنی نہ ہواور وہ ہر قلب مضطر کے لئے تسلی اور دلجوئی کی سعی فرماتی ہیں۔میاں چراغ نے اپنے بیان میں امرتسر وغیرہ سے سودے کا بھی تذکرہ کیا ہے۔حضرت والد صاحب قبلہ عرفانی کبیر جن دنوں امرتسر میں قیام فرما تھے وہ کہتے ہیں کہ جب قادیان سے شیخ حامد علی صاحب یا مرزا اسمعیل بیگ یا چراغ یا حافظ غلام محی الدین مرحوم سودا سلف لینے کے لئے آتے تھے تو وہ علی العموم میرے مکان واقعہ ہال بازار پر قیام فرماتے اس لئے کہ وہ اسٹیشن سے قریب تھا۔مرزا