سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 433
433 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ آپ کے خاندان میں مسکین پروری ایک خاص رنگ میں چلی آتی ہے۔حضرت نانا جان رضی اللہ عنہ غربا اور مساکین سے محبت رکھتے اور ان کی ہر گونہ مددا اپنا فرض سمجھتے تھے۔میر محمد اسحق اور ام المؤمنین ان کی اس فطرت کی منہ بولتی نشانیاں ہیں اور وہ خود اپنے گھر میں بھی بعض مساکین اور یتامیٰ کی پرورش اور خبر گیری فرماتے رہتے تھے۔یہی نقوش فطرت حضرت اُم المؤمنین کے قلب پر موجود تھے۔پھر خدا تعالیٰ انہیں ایسے گھر میں لے آیا جہاں ان کو اُم المؤمنین بنا تھا اور خلق اللہ عیالی کہنے والے عظیم الشان انسان کی ذمہ داریوں میں شریک ہونا تھا۔اس لئے اس فطرت صحیحہ کے ماتحت آپ نے ہمیشہ غربا ومساکین اور یتامی کی پرورش فرمائی اور بیوہ عورتوں کی دلجوئی اور سر پرستی کو اور اپنی خوشی کو ان کے لئے قربان کرنا اپنا فرض سمجھا۔میں تو غور کرتا ہوں اور واقعات کی روشنی میں غور کرتا ہوں تو مجھے تعجب ہوتا ہے کہ جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کو حضرت اُم المؤمنین کے خاندان سے ایک مناسبت چلی آتی ہے اسی طرح پر حضرت ام المؤمنین اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اخلاق وسیرت میں بھی بہت بڑی مناسبت اور مطابقت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی زندگی کے ابتدائی ایام سے (جبکہ آپ ایک بیکس انسان کی سی زندگی بسر کر رہے تھے ) ہی غرباء ومساکین کی مدد فرماتے۔چنانچہ اپنا کھانا تک جو ایک مختصر مقدار میں آتا ان مساکین اور یتامیٰ کے ساتھ تقسیم کر کے کھاتے جن کو آپ نے خاموشی سے مقرر کر رکھا تھا اور جس کا علم خود حضرت اور ان بچوں اور علیم وخبیر خدا کے کسی کو نہ تھا اسی طرح حضرت ام المؤمنین کا طرز عمل چلا آتا ہے۔بیوہ عورتوں کی خبر گیری عورتوں میں سے بعض بیوہ عورتیں تھیں جن کی پرورش کا کوئی سامان اور انتظام ان ابتدائی ایام میں قادیان جیسی بستی میں نہ ہو سکتا تھا۔مگر حضرت اُم المؤمنین نے ان کو اپنے دامنِ رحمت میں جگہ دی منجملہ ان کے ایک مائی امام بی بی مغلانی تھی جو عین عالم جوانی میں بیوہ ہو گئیں اور اس کے دو چھوٹے چھوٹے بچے تھے۔عمرالدین اور مہر دین نام ان میں سے عمر الدین اس وقت تک زندہ ہے اور ان دونوں بھائیوں کو کئی سال تک کارخانہ الحکم میں کام کرنے کا بھی موقعہ ملا اور یہ بھی حضرت ام المؤمنین کی تحریک اور سفارش کا نتیجہ ہے۔