سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 432
432 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ تمہیدی نوٹ حضرت اُم المؤمنین سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ (متعنَا اللَّهُ بِطُولِ حَياتِها) كى سيرة وشمائل کے مختلف پہلوؤں پر بحث بجائے خود کئی تنظیم مجلدات کو چاہتی ہے اس لئے کہ آپ کی زندگی میں اس قدر واقعات آپ کی سیرت پر روشنی ڈالتے ہیں کہ ان سب کو جمع کرنا بھی مشکل ہے۔میں مختصر ا آپ کی سیرۃ کے بعض پہلوؤں کو اُجاگر کرنے کی حقیر سعی کروں گا اور مختلف بزرگوں اور خواتین نے جن واقعات کا اپنی روایتوں میں ذکر کیا ہے ان میں ہر واقعہ آپ کی سیرۃ کے کسی نہ کسی پہلو کو نمایاں کرتا ہے اور پہلے حصہ میں بھی بعض واقعات بطور مثال پیش کئے جاچکے ہیں تاہم میں خاص اس عنوان کے تحت بھی ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں اور میرا کام تو صرف اسی قدر ہے کہ مرحوم عرفانی صغیر کے نوٹس کو جمع کر دوں۔اللہ تعالیٰ اس کی روح پر بے شمار فضل کرے اور اپنے دامنِ رحمت میں اسے مقام رضا پر مبعوث فرمائے۔اگر اسے مہلت ملتی تو جس شان سے وہ اس حصہ کو لکھتا وہ اسی کا حق تھا۔حزین عرفانی کبیر تو یہی کہتا ہے۔اے بسا آرزو که خاک شده عرفانی کبیر حضرت ام المؤمنین ام المساکین ہیں حضرت ام المؤمنین اپنی فطرت میں مساکین، یتامیٰ اور خدا تعالیٰ کی اس مخلوق کیلئے (جن کو دنیا نے کمزور اور ذلیل سمجھ کر اچھوت کر رکھا ہے ) ایک دردمند دل لیکر آئی ہیں اور یہ شعر آپ کے حسب حال ہے۔خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی غیر مطبوعہ تحریرات میں ایک فقرہ درج ہے جس کو الحکم میں شائع کر دیا گیا تھا۔الْمَسَاجِدُ مَكانِى وَذِكْرُ الله حَالِى وَخَلْقُ اللَّهُ عَيَالِی یعنی مساجد میر امکان ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ذکر میری کیفیت حالی ہے اور خدا تعالیٰ کی مخلوق میرا کنبہ ہے۔اسی سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ خود حضرت اُم المؤمنین کا دائرہ عمل خدا تعالیٰ کی مخلوق کے متعلق کس قدر وسیع ہے۔