سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 428 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 428

428 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ بھی کرتی جاتی تھی میں نے عرض کیا کہ تیل بہت اچھی چیز ہے آپ اس کا استعمال زیادہ کریں تو سر درد نہ ہوا کرے آپ اپنی بہو سے روزانہ تیل ڈالوالیا کریں۔آپ نے فوراً فرمایا۔کیا تم بہو نہیں تم ہی ڈالو اس کلام نے مجھ پر بے حدائثر کیا کہ آپ ہم کو اپنی اولاد ہی کی طرح عزیز رکھتی ہیں جب تک میرا قیام رہا میں اس سعادت سے حصہ لیتی رہی۔( نوٹ ) یہ روزمرہ کا برتا ؤ حضرت اُم المؤمنین کا ہے۔آنے والے مہمانوں کے ذہن میں اپنے عمل اور سلوک سے یہ امر راسخ کرتی ہیں کہ یہ ان کا اپنا گھر ہے۔آج حق ناشناس بلکہ ناشکر گزار اس گھر کو گڈی کہتے ہیں۔کاش انہوں نے گڑیوں اور پیروں کو جا کر دیکھا ہوتا وہاں جو امتیازات پیر و مرشد اور مرید میں ہیں ان کا یہاں نام و نشان نہیں۔حضرت ام المؤمنین کا طرز عمل ایک شفیق ماں کا ہے وہ با وجود دائمی علالت کے مہمان سے اسی محبت و شفقت سے پیش آتی ہیں جو ہمیشہ سے آپ کا معمول ہے ان کو اجنبیت سے دور رکھتی ہیں اور بے تکلفی پیدا کر دیتی ہیں تا کہ وہ کسی قسم کی تکلیف محسوس نہ کریں۔ان کی تربیت اپنے عمل سے کرتی ہیں اور ہر ایک کو یہ سمجھنے کا موقعہ دیتی ہیں کہ وہ آپ کو اور قریب کرنے کا حق رکھتا ہے۔دراصل یہ ایک نشان ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جو خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ مہمانوں سے تھکنا نہیں۔وہی عزم بلند اور حوصلہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اُم المؤمنین کو عطا فرمایا ہے۔والدہ صاحبہ احمد زمان عباسی کا بیان حضرت حکیم محمد زمان صاحب عباسی مرحوم و مغفور حضرت نواب محمد علی خاں صاحب قبلہ کے اہلکار ایک مخلص احمدی عالم اور حکیم تھے ان کی اہلیہ صاحبہ بیوہ ہونے کے بعد حضرت ام المؤمنین کے زیر شفقت رہیں وہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت اُم المؤمنین نے میرے شوہر کی وفات کے بعد خصوصیت سے مجھ پر اور میرے بچوں سے بے حد شفقت اور محبت کا برتاؤ کیا۔ایک مرتبہ جب آپ مالیر کوٹلہ تشریف لے گئیں تو مجھے ساتھ ہی لے گئیں۔ہر وقت میری دلجوئی اور آرام و آسائش کا خیال فرماتی رہیں۔آپ کا عام معمول تھا کہ میری ضرورتوں کا خود خیال فرمایا کرتیں اور حکیم صاحب کی وفات کی وجہ سے مجھے جو صدمہ تھا حضرت ام المؤمنین نے اپنی غمگساری سے مجھے اس میں ہر طرح اطمینان اور تسلی دلائی۔مجھے یا