سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 31 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 31

31 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کتنی عظمت ہے اس خاتون کی جسے خدا تعالیٰ نے تیرہ سو سال کے بعد پھر خدیجہ ثانیہ بنا کر بروز محمد کی بیوی بنادیا اور کتنی عظمت ہے اس نسل کو جو تکمیل اشاعت دین کی غرض کیلئے دنیا کی آخری ہدایت اور نور قرار دی گئی۔یہ نتیجہ تھا امام حسین کی قربانی کا۔رَضِيَ اللَّهُ تَعَالٰی عَنْهُ حضرت سید محمد طاہر دور اوّل ہندوستان میں سب سے اول حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند رحمہ اللہ کی بخارا سے پہلا قافلہ نسل سے خواجہ محمد نصیر نقشبندی شاہجہان شہنشاہ ہند کے زمانہ میں بخارا سے ہندوستان آئے۔گویا یہ بخارا کے اس خاندان کا پہلا قافلہ تھا۔شاہنشاہ ہند نے ان کو بڑے اعزاز سے اپنے دربار میں بلا لیا اور ان کو ہر قسم کے اعزاز اور مناصب سے سرفراز فرمایا اور اپنے لختِ جگر شاہزادہ شجاع کے ساتھ جو اس زمانہ میں بنگال کے ناظم یعنی وائسرائے تھے وزیر کے منصب پر فائز کر کے بھیج دیا۔جب تک شاہجہان بادشاہ برسر اقتدار رہا شجاع ناظم بنگال رہے اور جب اور نگ زیب کا دور آیا اور خاندانی جنگ کا آغاز ہوا تو شاہ شجاع بنگال سے اور نگ زیب کے مقابلہ کیلئے روانہ ہوا۔شاہ شجاع کے ساتھ ۲۵ ہزار فوج اور تو پخانہ تھا۔بنگال سے چل کر اس فوج نے بنارس آکر دم لیا اور بنارس سے کچھہ پہنچ کر۔اُدھر سے اور نگ زیب بڑھا آ رہا تھا۔الہ آباد اور اٹاوہ کے بیچ دونو بھائیوں کے درمیان ٹڈ بھیٹر ہوئی نتیجہ یہ ہوا کہ شاہ شجاع کی فوج کو شکست ہوئی اور نگ زیب کی فوج نے حملے کے جوش میں اندھے ہو کر زنا نے خیموں کی طرف رُخ کیا۔خواجہ محمد نصیر صاحب کو یہ امر سخت ناگوار گذرا اور وہ تلوار لے کر اُٹھ کھڑے ہوئے اور خوب دل کھول کر داد شجاعت دی۔بالآخر مستورات کے کیمپ کے باہر شہید ہو گئے ہے اس مختصر سے واقعہ سے مندرجہ ذیل امور منتج ہوتے ہیں : اول : خاندانِ نقشبند کا پہلا قافلہ زیر قیادت خواجہ محمد نصیر صاحب دہلی آیا۔دوم یہ زمانہ شاہنشاہ شاہجہان کا تھا جو مغلیہ سلطنت کے عین عروج کا زمانہ تھا۔