سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 425 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 425

425 خاندان رکھتا ہے۔میری تحریک پر انہوں نے لکھا کہ سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ (۱) میں نے ۱۹۰۶ ء میں شرف بیعت بذریعہ خط حاصل کیا۔۱۹۰۷ء کے آخر یا ۱۹۰۸ء کے آغاز میں قادیان گئی اور اس کے بعد اب تک بحمد اللہ یہ سلسلہ جاری ہے اور انشاء اللہ تا حیات رہے گا۔اس عرصہ میں جو کچھ دیکھا مختصر الکھتی ہوں۔۔کبھی ناراض نہ ہونا اس قدر زمانہ دراز میں میں نے کبھی حضرت ممدوحہ کوکسی پر ناراض ہوتے نہیں دیکھا۔البتہ ایک مرتبہ ایک عورت مائی تابی نام حضرت کے گھر میں رہتی تھی اس کا کوزہ یا کوئی اور معمولی چیز اس کی غیر حاضری میں کسی نے توڑ دی۔مائی تابی یہ نقصان دیکھ کر بدعائیں کر رہی تھیں۔اس پر حضرت ممدوحہ نے کسی قدر سختی سے فرمایا : بد دعا کیوں دیتی ہو کسی ناسمجھ بچہ نے نقصان کیا ہوگا۔تم کو خود بھی تو احتیاط کرنی چاہیئے تھی“۔ی یختی محض اس وجہ سے تھی کہ آپ بد دعا کو پسند نہیں فرماتی ہیں اور کوئی لفظ نہیں فرمایا بلکہ نصیحت کی اور یہ بھی ہدایت کی کہ انسان کو خود اپنی متاع قلیل یا کثیر کی آپ حفاظت کرنی چاہئے۔علاوہ بریں جب خاطی کا علم ہی نہیں تو بلا وجہ عام طور پر بد دعاؤں سے نفرت کا پتہ چلتا ہے۔ایام جلسہ میں سلوک ایام جلسہ میں مستورات کا ہجوم آپ کے گر درہتا ہے آپ ہمیشہ کشادہ پیشانی رہتی ہیں اور ہر ایک ادنی اعلیٰ سے حال دریافت کرتی ہیں اور ہر ایک یہی سمجھتی ہے کہ ” مجھ پر حضرت مدوحہ کی بڑی مہربانی اور شفقت ہے اب تو آپ ضعیف ہوگئی ہیں پہلے آپ کا معمول تھا کہ جب میں جاتی تو اٹھ کر محبت و شفقت سے معانقہ فرمایا کرتیں۔ایک واقعہ ایک مرتبہ آپ سیر کو تشریف لے گئیں بہت سی مستورات ساتھ تھیں ایک گاؤں آ گیا ( قادرآباد