سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 30 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 30

30 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ یہ وہ زمانہ تھا جس میں حضرت مسیح موعود و مہدی مسعود پیدا ہو چکے تھے اور آپ کی عمر ۲۰ سال کی ہو چکی تھی کیونکہ آپ کی پیدائش ۱۸۳۵ء میں ہوئی تھی اور آپ کے ظہور کا زمانہ قریب تھا اور وہ وقت بھی نزدیک تھا جب کہ فرقہ محمدیہ کی روشنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی روشنی میں گم ہو جانے والی تھی۔چنانچہ ۱۸۶۵ء میں حضرت میر ناصر امیر کے لختِ جگر حضرت میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مشکوے معلیٰ میں نصرت جہاں بیگم کی ولادت باسعادت ہوئی اور جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی فیض حضرت فاطمہ علیہا السلام کے ذریعے اُن کی اولاد میں منتقل ہوا بالکل اسی طرح خاندان محمدیہ کی روشنی حضرت نصرت جہاں بیگم صاحبہ کے ذریعے ۱۸۸۴ء میں حضرت مسیح موعود اور مہدی مسعود کی روشنی میں گم ہوگئی اور آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نکاح میں اللہ تعالیٰ کی خاص مشیت کے ماتحت لائی گئیں اور اس طرح ایک نئی اور پاکیزہ آسمانی روشنی میں مل کر یہ پہلی روشنی جلوہ گر ہوئی۔حقیقت میں شمع وہی تھی فانوس دوسرا تھا۔آفتاب وہی تھا مگر مطلع نیا تھا۔یہ اس لئے ہوا کہ تا ایک نئی نسل کا آغاز ہو جو قیامت تک اپنے نور سے دنیا کو منور رکھے گی اور اس طرح حضرت امام حسین کو اس قربانی کا پھل مل گیا اور راستباز اور نیک خادمان دین الہی کی ایک بڑی جماعت بذریعہ نسل اور بذریعہ روح دی گئی اور اس آخری زمانہ میں جب کہ محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت نے اسلام کی تکمیل اشاعت کے لئے ایک بروز محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا تو مشابہت تامہ کیلئے نسلِ حسین سے ایک دوسری خدیجہ کو پیدا کیا تا کہ اس کی نسل سے پھر دوسرا دور شروع ہو اور تکمیل اشاعت دین کیلئے یہ لوگ جو ایک طرف نسلِ حسین سے بھی ہوں گے معلوم نہیں کہ کس قدر دکھ اُٹھا ئیں گے اور کتنی قربانیاں کریں گے اور ان کو حضرت امام حسین سے کتنی قرب کی نسبتیں ہوں گی کہ مسیح موعود نے فرمایا: کربلا ایست سیر ہر آئم صد حسین است در گریبانم نادانوں نے اسے حضرت امام حسین کی تو ہین قرار دیا ہے جو شخص خود امام حسین سے ایک نسبت خاص رکھتا ہو جو خود بروز محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہو وہ امام حسین علیہ السلام کی تو ہین نہیں کر سکتا۔میرے ذوق میں تو اس میں ایک پیشگوئی مخفی ہے جو ان تکالیف اور مشقتوں اور قربانیوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جو اس بروز محمد اور اس بروز خدیجہ کی اولاد اور نسل کو اشاعت دین کے راستے میں اٹھانی پڑیں گی۔