سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 29
29 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ حضرت خواجہ محمد در ولیش ، حضرت خواجہ امکنکی ، حضرت خواجہ محمد باقی ، حضرت مجد دالف ثانی ، حضرت خواجہ محمد معصوم ، حضرت خواجہ حجتہ اللہ نقشبند ثانی حضرت خواجہ محمد زبیر اور اس قسم کے بہت سے بزرگ مختلف ملکوں میں اس سلسلہ نقشبندیہ کے ذریعے پیدا ہوئے اور انہوں نے درویشانہ طریق پر اسلام کی بڑی بڑی خدمتیں کیں۔یہ سب لوگ مجاہدین اسلام تھے اور ان کی عمریں بے ریا خدمت میں گزر گئیں۔اللہ تعالیٰ ان سب پر اپنے فضلوں کی بڑی بڑی بارشیں برسائے۔آمین اسی نقشبندی طریق کے حاملین میں سے گیارہویں صدی میں حضرت مجدد الف ثانی ایک ایسے بزرگ پیدا ہوئے جو اپنے زمانے کے مجدد تھے اور اسلام کے دور خزاں میں بہار پیدا کرنے کا باعث ہوئے۔مگر حضرت مجددالف ثانی حضرت خواجہ سید بہاء الدین نقشبندی کے صلبی بیٹے نہ تھے۔ان کا تعلق صرف روحانی فیض سے وابستہ تھا۔ہاں سید بہاء الدین نقشبند کی جسمانی اولا د بھی اس فیض روحانی سے محروم نہ تھی۔پہلے بھی ان کی جسمانی اولاد میں سے اکثر باخدا لوگ پیدا ہوئے تھے مگر بارہویں صدی میں حضرت خواجہ محمد ناصر دہلوی پر پھر روحانی پر تو ہ پڑا اور وہ اپنے زمانے کے بہت بڑے ولی کامل مانے گئے۔ان کے بعد ان کے بیٹے حضرت خواجہ میر در درحمتہ اللہ علیہ ایسے پاکباز بزرگ تھے کہ اگر میں ان کو تیر ہویں صدی کا ایک با کمال ولی کہوں تو بیجا نہ ہوگا۔ان بزرگوں کے مختصر اوصاف تو الگ الگ میں لکھوں گا لیکن یہاں میں اس قد رلکھ دینا ضروری خیال کرتا ہوں کہ حضرت خواجہ میر درد بچپن سے فیض روحانی سے مالا مال ہو چکے تھے۔پندرہ برس کی عمر میں انہوں نے ایک رسالہ تصنیف فرمایا جس کا نام اسرار الصلوۃ“ رکھا۔جب اس مختصر سے رسالہ کو حضرت مولانا فخر الدین چشتی نظامی دہلوی اور حضرت مولانا شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی نے ملاحظہ فر ما یا تو دونو بزرگ اصحاب نے فرمایا ذَلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيُهِ مَنْ يَشَاءُ یہ وہی دولت ہے۔الغرض حضرت خواجہ محمد ناصر صاحب سے ایک نئے سلسلہ کی بنیاد پڑی جو سلسلہ محمد یہ کہلایا۔اس سلسلہ کے متعلق ایک عظیم الشان پیشگوئی تھی کہ یہ سلسلہ محمد یہ امام مہدی کے آنے تک جاری رہے گا اور اس کے بعد امام مہدی کے آنے کے بعد اس کی روشنی اس کے نور میں گم ہو جائے گی۔چنانچہ جیسے پیشگوئی میں لکھا تھا بالکل اس کے مطابق ہوا۔اس سلسلہ کے آخری خلیفہ حضرت میر ناصر امیر ہوئے۔جو ۱۶ ذوالحجہ ۱۲۷ھ مطابق ۱۱۰ ستمبر ۱۸۵۴ء کو فوت ہو گئے۔