سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 405
405 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ہے کہ اس کے گھر میں ایک لڑکی پیدا ہوئی ہے جس کا منہ وغیرہ کچھ نہیں چنانچہ حضرت ام المؤمنین وہاں تشریف لے گئیں مگر وہ لڑکی فوت ہو چکی تھی۔نوٹ : حضرت اُم المؤمنین غیر احمدیوں کے گھر میں بھی چلی جایا کرتی تھیں اور اپنی تقریبوں میں حضرت اقدس بھی ان کو دعوت دے دیا کرتے تھے آپ ان لوگوں کو اپنی رعایا کے افراد سمجھ کر ان سے ہمیشہ سلوک کرتے رہتے اور ان کی سختیوں اور مخالفتوں کی بھی پرواہ نہ کرتے۔حضرت اُم المؤمنین کی شفقت عامہ کا یہ واقعہ شاہد ہے۔(۸) والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ تمہارے ابا امرتسر گئے ہوئے تھے۔میں دن کو حضرت اماں جان کے ہاں چلی گئی۔مرحوم محمد افضل خاں کی بیوی سردار بیگم کہنے لگی۔محمود کی اماں تم بھی میاں محمود کو کہانی سناؤ۔میں نے کہا تم تو اردو میں کہتی ہو۔میں پنجابی بولتی ہوں۔میاں اسے کیا سنیں گے۔میں نے کہانی کہی میاں نے سن کر کہا بہت اچھی کہانی ہے۔دوسرے دن پھر گئی تو میاں حضرت اماں جان کی گود میں آ کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے اماں جان محمود کی اماں آگئی۔تم ان کو کہو کہانی سنائے کہو اماں جان۔اماں جان نے فرمایا بہو! تم کو خیال نہیں آتا۔میرا بچہ کیا کہہ رہا ہے۔میرا بچہ کہانی کو کہ رہا ہے۔میں نے کہا اماں جان دن کو کہانی کیا اچھی لگے گی اس پر اماں جان نے فرمایا ہم دن کو ہی سنیں گے۔میں نے کہانی شروع کی اس اثناء میں حضرت مسیح موعود تشریف لائے اور دریافت فرمایا محمود کی اماں کیا کر رہی ہو؟ اماں جان نے کہا کہانی سنا رہی ہیں حضور نے فرمایا۔ہاں ہاں سناؤ بچوں کو کہانیاں سنانے سے عقل بڑھتی ہے اور کہانی کے بعد اماں جان نے فرمایا بہو ! تمہارے منہ سے تو لگتا نہیں کہ تم ایسی اچھی کہانی کہتی ہو تب ہی تو محمود میاں ضد کر رہے تھے۔(نوٹ) یہ واقعہ بھی حضرت اُم المؤمنین کے تربیت اولاد کے پہلو کو لئے ہوئے ہے اور خود حضرت امیر المومنین کی سیرت پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔حضرت والد صاحب قبلہ نے سیرت مسیح موعود میں کہانیوں کے متعلق بھی بحث کی ہے خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام وعظ و تبلیغ کے لئے کہانیوں سے کام لیتے تھے۔