سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 406 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 406

سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ 406 (۹) والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت اماں جان سیر کر کے آئے اور حضرت بھائی عبدالرحمن قادیانی کے مکان کے پاس جو بڑ کا پرانا درخت ہے اس کے سایہ میں حضرت ام المؤمنین تشریف فرما ہو گئیں۔اس وقت وہاں کوئی مکان نہ تھے صرف ہمارا مکان ہی قریب تھا۔حضرت اُم المؤمنین نے خادمہ کو فرمایا کہ بہو کو کہو جلد میرے لئے کسی لائے۔میں اس عزت افزائی اور شفقت کا شکر ہی نہیں کر سکتی۔جھٹ پٹ میں خود کسی اور پراٹھے لیکر گئی۔حضرت اماں جان نے اور حضور علیہ السلام نے بھی غریب نوازی فرمائی اور دعا دی۔( نوٹ ) یہ واقعات بظاہر بے حقیقت سے معلوم ہوتے ہیں مگر اس سے روزانہ زندگی اور اپنے خدام کی حوصلہ افزائی اور ان کے قلوب میں حقیقی محبت اور اخوت پیدا کرنے کا سامان لئے ہوئے ہیں۔(1•) والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ گزشتہ ۴۵ سال کے واقعات اس قدر ہیں کہ اس کے لئے تو پچاس کتابیں بھی کافی نہیں ہو سکتی ہیں حضرت اُم المؤمنین کی زندگی ایک نمونہ کی زندگی ہے اور ہر احمدی کے ساتھ ان کا ایسا ہی برتاؤ اور سلوک رہا ہے۔البتہ ہم لوگ جو ابتدا ہی میں آئے تھے ان کے ساتھ خصوصیت سے حضرت اُم المؤمنین کو تعلق رہا ہے۔ہم لوگوں نے ان کے گھر کو اپنا گھر سمجھا ان کی صحبت میں جا کر ہر غم اور تکلیف بھول جاتی اور وہ ہر ضرورت کے وقت ما در مہربان کی طرح برتاؤ کرتیں میرے بچوں کی پیدائش اور ان میں سے بعض کی وفات پر ہماری خوشی اور غمی میں شریک رہیں۔سچ تو یہ ہے کہ ان کی موجودگی اور تسلی نے غم کو بھلا ہی دیا۔اللہ تعالیٰ ان کی عمر میں برکت دے۔میں ایک اور واقعہ بیان کر دینا ضروری سمجھتی ہوں۔اس ابتدائی زمانہ میں یہاں ایک رسم جاری ہوئی کہ عورتیں با ہم بہنا پا قائم کرتی تھیں اور ان میں سے بعض نے حضرت اُم المؤمنین سے بہنا پا کیا اور اس تقریب پر بڑی دعوتیں کیں۔یہ مرزا خدا بخش اور میاں نبی بخش بٹالوی کی بیویاں تھیں۔ایک دن عورتوں نے مجھے بھی کہا کہ تم بھی بہنا پا کرو۔میں نے شیخ صاحب سے جا کر کہا ان کی طبیعت میں ہمیشہ سے کورا پن ہے انہوں نے کہا ہم کو اسلام نے بھائی بھائی بنا دیا پھر یہ بھائی چارہ گم ہو گیا۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ