سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 404 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 404

404 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ تعلیم کے لئے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مقررفرمایا تو مجھے گھر سے بلایا۔چھوٹی مسجد کی سیڑھیوں پر سے اندر داخل ہوا۔حضرت تشریف لائے اور فرمایا میاں یعقوب علی (حضرت اقدس مجرد نام لے کر کسی کو خطاب نہ فرماتے تھے ) آپ میاں محمود کو پڑھایا کریں اور میں آپ کی خدمت بھی کروں گا (حضرت والد صاحب جب یہ واقعہ بیان کرتے ہیں تو وہ رو پڑتے ہیں اور ان کا جی بھر آتا ہے کہ آقا خادم سے اس طرح خطاب فرمائے) والد صاحب نے عرض کیا کہ یہ تو میرے لئے اور میری نسل کیلئے عزت وسعادت ہے کہ مجھے اس خدمت کا موقعہ ملا۔فرمایا نہیں استاد کی خدمت بھی کرنی چاہئے۔غرض یہ کہہ کر حضرت امیر المومنین (اس عہد کے میاں محمود ) کو بلا کر مسجد مبارک میں میرے سپرد فرمایا اور آپ اندر تشریف لے جا کر بیت الفکر میں سے ہو کر ہاتھ میں ایک کشتی جس میں چائے بسکٹ وغیرہ تھے لے کر نمودار ہوئے۔حضرت والد صاحب فرماتے ہیں کہ میں تو شرم سے آب آب ہو گیا اور مجھ پر رقت طاری ہوگئی۔میں نے عرض کیا کہ حضور نے کیوں تکلیف فرمائی۔فرمایا استاد کی خدمت ضروری ہوتی ہے اور اس طرح بچوں کو بھی سمجھ آتی ہے۔اللھم صل على مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلَّم - غرض حضرت اُم المؤمنین کے اس واقعہ میں وہی روح کارفرما ہے آپ دوسروں کی دلداری اور تسلی کے لئے فی الحقیقت ایک شفیق ماں ہیں۔(y) والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ اس زمانہ میں ہمارا مکان حضرت اُم المؤمنین کو بہت پسند تھا وہ کھلا تھا اور اس کی پشت پر بڑا چبوترہ تھا اور کیکروں کا گھنا سایہ تھا۔نیچے ڈھاب بہتی تھی اس لئے آپ اکثر تشریف لے آتیں۔ایک دفعہ آموں کا موسم تھا۔آپ کے ساتھ بہت سی عورتیں بھی تھیں۔آپ تشریف لائیں میں نے آم پیش کئے۔آپ نے اور ہماری بہنوں نے مل کر کھائے اور پھر فرمایا کہ میں گڈر کشمیری کے گھر جاؤں گی ( گڈر کشمیری کا اصل نام امام الدین تھا وہ اگر چہ احمدی نہ تھا مگر حضرت صاحب کا ہمیشہ ادب کرتا اور حضرت صاحب ہی کہتا اس کا بڑا بھائی بھی مخالف تھا مگر وہ عقیدہ کے اختلاف سے آگے نہ جاتا تھا۔اس کا بیٹا اب احمدی ہے مگر امام الدین کے بیٹوں کے حصہ میں یہ سعادت نہیں آئی ) میں نے سنا