سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 401 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 401

401 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ بہو کے گھر سے ضرور مل جائے گا۔نوٹ : یہ واقعہ معمولی ہے مگر اس میں حضرت اُم المؤمنین کی روح تربیت کا پتہ لگتا ہے کہ وہ جماعت کی خواتین میں مستعدی اور فرمان پذیری کی قوتوں کو نشو ونما دینا چاہتی ہیں اور ان میں اس احساس کا پیدا کرنا مقصود تھا کہ ہم سب ایک ہی وجود کے اعضاء ہیں اور نیز تکلفات سے الگ رہنے کی بھی تعلیم تھی۔(۳) میری والدہ بیان کرتی ہیں کہ جب میں اوّل اوّل آئی تھی اس وقت حضرت ام المؤمنین کا یہ بھی معمول تھا کہ کبھی کبھی موسم بہار میں اپنے باغ تشریف لے جایا کرتی تھیں اور قادیان میں آپ کے خدام جو رہتے تھے ان کی مستورات کو بھی بلا بھیجا کرتی تھیں اور ایک وحدت اور مساوات پیدا کرنے کیلئے ایک ہی قسم کا لباس سب کو پہنے کی ہدایت فرماتیں اور اپنا لباس بھی ایسا ہی رکھتیں جو دوسری خواتین کا ہوتا۔یعنی وہ یہ کہ قیمتی اور شاندار نہ ہوتا۔باغ میں موسمی پھل اور کھانا وغیرہ سب مستورات برابر بیٹھ کر اور مل کر کھاتیں۔ایک مرتبہ ہر ودائی (ایک پرانی خادمہ ) ہمارے گھر میں آئی اور اس نے کہا کہ کل بیوی صاحبہ باغ میں جائیں گی سب عورتوں کو چلنے کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے کہ گلابی رنگ کے دو پٹہ وغیرہ پہن کر آئیں۔شیخ صاحب نے کہا کہ جا کر عرض کر دو کہ میری بیوی نہیں آ سکتی۔اسے گھر میں کل کام ہے میں تو ابھی خاموش ہی تھی۔مائی ہرو نے کہا تم کیسی باتیں کرتے ہو۔بیوی صاحبہ کا حکم ہے انہوں نے کہا تم نے حکم پہنچادیا تم میری طرف سے جا کر کہو کہ شیخ صاحب کہتے ہیں گھر میں کل کچھ کام ہے۔میں نے کہا نہیں مجھے اجازت دے دو میں چلی جاؤں گی ان کو ناراض مت کرو۔شیخ صاحب نے کہا تم نے کیا سمجھا ہے۔وہ ہر گز ناراض نہ ہوگی تم کو معلوم ہو جائے گا۔غرض دو چار مرتبہ تکرار ہوا۔آخر وہ چلی گئی اور اس نے جا کر کہا کہ اس کا آدمی نہیں بھیجتا وہ کہتا ہے کہ کل کام ہے۔حضرت ام المؤمنین نے سن کر صرف اچھا کہہ دیا۔پھر دو تین دن بعد جو میں گئی تو فرمایا۔بہو میں بہت خوش ہوئی۔عورت کو اپنے شوہر کی اطاعت کرنی چاہئے اور اس کی خوشی کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے“۔