سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 400
سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ 400 (۲) حضرت ام المؤمنین نے باوجود اپنے بلند رتبہ اور اعلیٰ شان کے اپنے عمل سے ہمیشہ اسلامی مساوات کا عملی سبق دیا۔ان کے ہاں یوں تو حفظ مراتب کا خیال رکھا جاتا ہے لیکن اپنے طرز عمل سے کبھی اس روح کو پیدا نہیں ہونے دیا کہ غیر مناسب امتیاز ایسے طور پر پیدا ہو کہ کوئی دوسرے کو حقیر سمجھے یا کسی کو اپنی کمتری کا احساس پیدا ہو جس سے اس کی اخلاقی قوتیں اور شرافت انسانی کے جذبات کچلے جاویں۔حضرت ام المؤمنین کے معمولات میں یہ امر داخل ہے کہ وہ اپنے روحانی فرزندوں کے گھروں میں بھی تشریف لے آیا کرتیں اور نہایت بے تکلفی سے کسی قسم کے امتیاز کے بغیر مل جل کر ان کی روحانی اور عملی تربیت فرماتیں اور ان کی اہلی زندگی اور بسر اوقات کا عجیب عجیب رنگوں سے جائزہ لیتی رہتیں اور پھر جس کو حاجت مند پاتیں اس کی مددفرما تھیں۔بہر حال ایک دن جب کہ شیخ صاحب ( عرفانی کبیر ) امرتسر گئے ہوئے تھے اور اس وقت ہم سیّد محمد علی شاہ مرحوم کے مکان کی اوپر کی منزل میں بطور کرایہ دار رہتے تھے اور میں حسب معمول دن کو آ کر ان کے لئے کھانا وغیرہ تیار کر کے رکھا کرتی تھی۔حضرت اُم المؤمنین کے ہاں سے ایک خادمہ آئی اور اس نے کہا۔مجھے بیوی جی ( ان ایام میں آپ کو بیوی جی بھی کہا کرتے تھے ) نے بھیجا ہے اور کہا کہ اماں جان کہتی ہیں۔آج میں اپنے مریدوں کے گھر کا کھانا کھاؤں گی۔میں بعض گھروں میں گئی تو انہوں نے عذر کر دیا کہ تیار کر کے بھیجیں گے۔تب اماں جان نے فرمایا کہ مائی ایک گھر ہے تم شیخ صاحب کے گھر جاؤ ( حضرت اُم المؤمنین نے جس طرح میری والدہ کو بہو کے نام سے خطاب فرماتی ہیں۔حضرت والد صاحب کا کبھی نام نہیں لیا ہمیشہ شیخ صاحب کہہ کر نوازتی ہیں۔ان کا ذکر غائب ہو یا حاضر محمود عرفانی ) ان کی بیوی فوراً بھجوائے گی۔اگر تیار نہ ہو تو بھی عذر نہ کرے گی۔جب اس خادمہ عورت نے آ کر یہ ارشادفرمایا تو میری والدہ کہتی ہیں مجھے بے حد خوشی ہوئی کہ حضرت اُم المؤمنین میرے گھر کو اپنا گھر سمجھتی ہیں اور مجھ غریب پر اس قدر نوازش اور حسنِ ظن ہے۔میں فوراً اُٹھی قیمہ پکا کر رکھا ہوا تھا اور آٹا گوندھ کر رکھ چھوڑا تھا کہ شیخ صاحب کے آنے پر گرم گرم تیار کروں گی۔میں نے جھٹ گرم گرم پھلکے تیار کر کے کھانا بھجوا دیا۔حضرت اُم المؤمنین نے اس کو کھایا اور اظہار خوشی فرمایا اور یہ بھی کہ میں نے کہا تھا کہ