سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 399
399 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ وقت چھوٹا بچہ تھا۔میری پیدائش اکتوبر ۱۸۹۷ء کی ہے اور مجھ سے چند روز پیشتر حضرت عرفانی کبیر نے الحکم جاری کیا تھا اس لئے وہ ہمیشہ محبت سے مجھے الحکم کا چھوٹا بھائی کہا کرتے ہیں۔حضرت والدہ صاحبہ کے تاثرات کو میں اسی زمانہ سے شروع کرتا ہوں بلکہ میں نے سیرۃ اُم المؤمنین کا آغاز اسی واقعہ سے کیا ہے اور اب مکرر درج کرتا ہوں۔میری بچپن کی زندگی کا ایک واقعہ (1) میری پیدائش اکتوبر ۱۸۹۷ء میں ہوئی۔۱۸۹۸ء میں والد صاحب قادیان ہجرت کر کے آگئے تھے۔ان کا معمول یہ تھا کہ وہ اخبار کے کام امرتسر جاتے رہتے تھے یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقدمات کے سلسلہ میں گورداسپور جایا کرتے تھے۔گھر میں میں ایک ننھا بچہ اور والدہ صاحبہ ہوتی تھیں۔اس لئے تنہائی سے بچنے کے لئے حضرت والدہ صاحبہ مجھ کو لے کر حضرت ام المؤمنین اید ہا اللہ کے پاس چلی جایا کرتی تھیں۔میری والدہ صاحبہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ حضرت اُم المؤمنین ان کو محبت سے ” بہو کے لقب سے پکارا کرتی ہیں۔میں اگر چہ دو ڈھائی سال کا بچہ تھا۔مگر گوشت کو بہت پسند کرتا تھا۔حضرت ام المؤمنین اید ہا اللہ کے باورچی خانے میں گوشت بھونا جار ہا تھا۔میں یہ دیکھ کر رونے لگا اور ضد کرنے لگا۔میری والدہ صاحبہ جنہوں نے بار ہا ہنستے ہوئے مجھے یہ کہانی سنائی فرمایا کرتی ہیں کہ میں تم کو اندر روکنے کی کوشش کرتی تھی کہ حضرت اُم المؤمنین کی نظر پڑگئی۔فرمایا بہو! بچہ کیوں روتا ہے؟ والدہ نے کہا نہیں جی کچھ نہیں فرمایا نہیں کچھ تو ہے۔بتلاؤ ، تب والدہ نے ندامت کے رنگ میں دبی زبان سے کہا کہ بوٹی مانگتا ہے۔یہ سن کر پکانے والی کو حکم دیا کہ جلدی دو اور اپنے سامنے ایک برتن میں کچھ بوٹیاں نکلوا کر دے دیں میری والدہ صاحبہ بتلایا کرتی ہیں کہ میں وہ گرم گرم بوٹیاں کھاتا جاتا تھا اور منہ سے رال سی ٹپکتی تھی۔اس واقعہ کا مجھے بار ہا لطف آیا اور میں نے اس واقعہ کے اندر بارہا اس سیر چشمی اور کرم کو دیکھا جو آپ کی فیاضی طبیعت میں موجود تھا۔