سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 28 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 28

28 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اس وادی غیر ذی زرع میں جہاں انسانی رہائش بالکل ناممکن تھی ان کا اپنی اولاد کوخدا تعالیٰ کی عظمت و جلال کے لئے چھوڑ دینا اس امر کا باعث ہو گیا کہ اسماعیل کو ایک قوم کا باپ بنا دیا گیا اور اس قوم سے وہ انسان پیدا ہوا جو فخر انسانیت فخر الانبیاء، جامع جمیع کمالات انسانی تھا۔یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔اور جب امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پھر حضرت اسماعیل جیسی قربانی کی تو ضروری تھا کہ ان کو بھی اس کا ویسا ہی بدلہ دیا جاتا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے قیامت تک صلحاء اور راستبازوں کی ایک بڑی جماعت آپ کی نسل میں پیدا کرنے کا فیصلہ کر دیا۔چنانچہ حضرت امام زین العابدین، امام محمد باقر، امام جعفر ، امام موسیٰ کاظم ، امام موسیٰ رضاء امام علی نقی، امام علی تقی ، امام حسن عسکری رضی اللہ تعالیٰ عنہم جیسے برگزیدہ اور باخدا اور پاکباز لوگ نسل حسین سے پیدا ہوئے اور باوجود اس کے کہ حادثہ کربلا میں دنیا آلِ حسین پر تنگ ہوگئی تھی اور دشمن نے اس نسل کو مٹا دینے کا عملی فیصلہ کر لیا تھا مگر نسل حسین اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے کونوں میں پھیل گئی اور دنیا کی راہنمائی اور اصلاح کا کام ہر جگہ ان کے ذریعہ سے مختلف زمانوں اور مختلف مکانوں میں ہوتا رہا۔اسی اصل کے ماتحت اللہ تعالیٰ نے نسلِ حسین کی ایک شاخ کو بخارا کی طرف منتقل کر دیا۔چنانچہ سید کمال الدین بخاری جو امام حسن عسکری کے دسویں پشت میں پوتے ہیں بخارے میں ہجرت کر گئے۔تاریخ ان اسباب کو بیان نہیں کرتی جو ان کی ہجرت کے اسباب ہیں لیکن جیسے کہ میں لکھ چکا ہوں کہ ان تمام حرکتوں کے پیچھے الہی منشاء کام کر رہا ہوتا ہے۔چنانچہ سید کمال الدین بخاری کے خانوادہ میں ایک ایسا باکمال اور روشن ستارہ پیدا ہوا جس نے اپنے روحانی کمال سے ایک دفعہ دنیا کو اپنی طرف کھینچ لیا اور دراصل اسی ستارہ کو بخارا کی زمین سے پیدا کرانے کے لئے یہ ہجرت کرائی گئی تھی اور یہ تھے حضرت سید بہاءالدین نقشبند۔حضرت سید بہاء الدین نقشبند اپنے زمانہ کے بہت بڑے رہبر کامل تھے۔ان کے ذریعے ایک خاص صوفی فرقہ کی بنیا درکھی گئی جو لوگ اس فرقہ میں شامل ہوتے تھے وہ نقشبندی کہلاتے تھے۔نقشبندی طریقہ آہستہ آہستہ بخارا سے نکل کر ہندوستان، افغانستان، ایران ، عراق ، شام ، مصر تک پھیل گیا۔اس طریقہ کے ماننے والے لوگوں میں بڑے بڑے باخدا اور ولی اللہ لوگ پیدا ہوئے۔چنانچہ خواجہ علاءالدین عطار، حضرت مولانا یعقوب چرخی، حضرت خواجہ عبید اللہ احرار، حضرت خواجہ مولا نا محمد زاہد،