سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 389
389 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ایک انصاف پسند آدمی کے لئے کافی ہے۔( نوٹ ) یہ مضمون ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب نے اس وقت لکھا اور میں نے شائع کیا۔اس کتاب کے موضوع کو ان اختلافی مسائل سے کچھ تعلق نہیں جن میں آج ہمارے بھائی مبتلا ہیں۔لیکن ان سطور بالا میں ان سب کا حل موجود ہے۔ام المؤمنین کا خطاب بجز نبی کی بیوی کے کسی اور کے لئے سزاوار نہیں۔یہ مسلمہ امر ہے اور حضرت ام المؤمنین کے تعلق باللہ اور آپ کی طہارت باطنی کا یہ خاص ثبوت ہے۔انسان کے ایمان کا کمال یا نقص ابتلاؤں ہی کے ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔انبیاء علیہم السلام کے مدارج کی ترقی ابتلاؤں کے ذریعہ ہوتی ہے اور ایمانی کیفیات کا ظہور ایسے ہی ابتلاؤں کے وقت ہوتا ہے۔حضرت اُم المؤمنین کے توكَّلْ عَلَى الله اور رضا بالقضا کے پر کھنے کا اس سے بڑا کیا واقعہ ہوگا۔مگر اس ابتلائے عظیم کے وقت آپ نے خدائے حی و قیوم ہی کو پکارا اور اپنی جان کی قربانی پیش کی اور یہ بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خدمت دین کرتے تھے۔غرض ان الفاظ کو بار بار پڑھو اور غور کرو اس کے ساتھ ہی آپ کی ذریت طیبہ کے متعلق بھی ڈاکٹر صاحب نے ایک عینی شہادت پیش کی کہ انہوں نے پورے صبر اور استقلال کا نمونہ دکھایا اور ان کے اس عمل کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت اور قوت قدسی کی دلیل ٹھہرایا اور حقیقت یہی ہے مگر آہ! معلوم کر کے سب کچھ محروم ہو گئے ہیں “ دد 66 سیرت اُم المؤمنین کے متعلق صحابیات کی روایات اور تاثرات عزیز مکرم مرحوم محمود احمد عرفانی نے روایات کے ایک کثیر ذخیرہ میں سے بعض روایات حضرت ائم المؤمنین کی سیرت و شمائل کے بعض پہلوؤں کے اظہار کے لئے جلد اول میں درج کی تھیں اور ان کا ارادہ تھا کہ وہ اس دوسری جلد میں تو ضیحی نوٹوں کے ساتھ ان روایات اور تاثرات کو شائع کریں گے مگر خدا تعالیٰ کی مشیت کچھ اور فیصلہ کر چکی تھی اور یہ کام مجھے سرانجام دینا پڑا میں اُس دل و دماغ کو کہاں سے لاؤں جو خدا تعالیٰ نے مرحوم کو عطا فرمایا تھا اور نہ میں اس ترتیب کو ملحوظ رکھ سکتا ہوں جو اس کے ذہن میں تھی۔اس لئے اس باب کے تحت میں ان روایات اور تاثرات کو جمع کر دیتا ہوں جب اللہ تعالیٰ ہم میں سے کسی کو دوسرے ایڈیشن کی توفیق دے گا تو اس مواد سے جدید اصول تاریخ وسیرت پر انشاء اللہ