سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 388 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 388

388 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ مورخہ ۳۰ مئی ۱۹۰۸ ء میں میں نے خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم کا ایک اعلان اور ڈاکٹر صاحب مرحوم کا ایک مضمون وفات مسیح کے عنوان پر شائع کیا اس میں ڈاکٹر صاحب نے اپنے ان مشاہدات اور تأثرات کا اظہار کیا ہے جو انہوں نے حضرت ائم المؤمنین کے ایمان اور رضا بالقضاء کے متعلق دیکھے۔سید مرحوم کے یہ ارشادات اپنے دوستوں کو حقیقت کا پیغام ہیں۔(عرفانی کبیر ) سید محمد حسین شاہ صاحب نے لکھا کہ ” جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام وفات پاگئے تو حضرت اُم المؤمنین نے اس وقت وہ نمونہ دکھایا کہ اس سے انسان حضرت اقدس کی قوت قدسی کا اندازہ اچھی طرح سے کر سکتا ہے۔ہم سب چھ سات گھنٹے حضرت اقدس کی خدمت میں رہے ام المؤمنین برقعہ پہنے خدمت والا میں حاضر ر ہیں اور کبھی سجدہ میں گر جاتیں اور بار بار یہی کہتی تھیں کہ اے حی و قیوم خدا۔اے میرے پیارے خدا اے قادر مطلق خدا۔اے مُردوں کے زندہ کرنے والے خدا تو ہماری مدد کر۔اے وحدہ لاشریک خدا۔اے خدا میرے گناہوں کو بخش۔میں گنہگار ہوں۔اے میرے مولیٰ میری زندگی بھی تو ان کو دیدے۔میری زندگی کس کام کی ہے۔یہ تو دین کی خدمت کرتے ہیں۔میری زندگی بھی ان کو دیدے۔بار بار یہی الفاظ آپ کی زبان پر تھے کسی قسم کی جزع فزع آپ نے نہیں فرمائی اور آخر میں جبکہ انجام بہت قریب تھا۔آپ نے فرمایا۔”اے میرے پیارے خدا یہ تو ہمیں چھوڑتے ہیں۔مگر تو ہمیں نہ چھوڑ یو۔اور کئی بار یہ کہا اور جب آخر میں یسین پڑھی گئی اور دم نکل گیا تو اندر مستورات نے رونا شروع کیا۔مگر آپ بالکل خاموش ہو گئیں اور ان عورتوں کو بڑے زور سے جھڑک دیا اور کہا کہ میرے تو خاوند تھے جب میں نہیں روئی تم کون رونے والی ہو۔ایسا صبر واستقلال کا نمونہ ایک ایسی پاک عورت سے جو کہ ایسی ناز و نعمت میں پلی ہوئی ہو اور جس کا ایسا بادشاہ اور ناز اٹھانے والا خاوند انتقال کر جائے۔ایک اعجاز ہے اسی طرح صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے اپنا پورا صبر اور استقلال کا نمونہ دکھایا اور ہر طرف سے سوائے حی و قیوم کے الفاظ کے اور کوئی آواز نہ آتی تھی۔یہ سارا نقشہ حضرت اقدس کی قوت قدسیہ کا اندازہ کرنے کے لئے